Poetry
Poet
Meter
- کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیںاور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہویہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہوRahat Indori (1950–2020)
- کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسےجہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسےRahat Indori (1950–2020)
- گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہےاب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہےRahat Indori (1950–2020)
- لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیںاتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیںRahat Indori (1950–2020)
- مجھے ڈبو کے بہت شرمسار رہتی ہےوہ ایک موج جو دریا کے پار رہتی ہےRahat Indori (1950–2020)
- محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گایہ پل صراط اگر ہے تو چل کے دیکھوں گاRahat Indori (1950–2020)
- مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھادیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھاRahat Indori (1950–2020)
- میرے اشکوں نے کئی آنکھوں میں جل تھل کر دیاایک پاگل نے بہت لوگوں کو پاگل کر دیاRahat Indori (1950–2020)
- میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دوآسماں لائے ہو لے آؤ زمیں پر رکھ دوRahat Indori (1950–2020)
- میرے کاروبار میں سب نے بڑی امداد کیداد لوگوں کی گلا اپنا غزل استاد کیRahat Indori (1950–2020)
- میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میںمگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میںRahat Indori (1950–2020)
- ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میںاجالے پاؤں پٹکنے لگے ہیں پانی میںRahat Indori (1950–2020)
- نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گاہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گاRahat Indori (1950–2020)
- نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتاتو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتاRahat Indori (1950–2020)
- وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھاسمندر آبرو کھونے لگا تھاRahat Indori (1950–2020)
- ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتےRahat Indori (1950–2020)
- ہم نے خود اپنی رہنمائی کیاور شہرت ہوئی خدائی کیRahat Indori (1950–2020)
- ہوں لاکھ ظلم مگر بد دعا نہیں دیں گےزمین ماں ہے زمیں کو دغا نہیں دیں گےRahat Indori (1950–2020)
- یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیںجیسے کعبے کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- یہ خاک زادے جو رہتے ہیں بے زبان پڑےاشارہ کر دیں تو سورج زمیں پہ آن پڑےRahat Indori (1950–2020)
- یہ سرد راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیںوہ اک لحاف میں اوڑھوں تو سردیاں اڑ جائیںRahat Indori (1950–2020)
- اک ملاقات کا جادو کہ اترتا ہی نہیںتری خوشبو مری چادر سے نہیں جاتی ہےRahat Indori (1950–2020)
- بوتلیں کھول کر تو پی برسوںآج دل کھول کر بھی پی جائےRahat Indori (1950–2020)
- تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکنآنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہےRahat Indori (1950–2020)
- تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھامجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھاRahat Indori (1950–2020)
- سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہےجب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہےRahat Indori (1950–2020)
- شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہمآندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہےRahat Indori (1950–2020)
- کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیےچاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہےRahat Indori (1950–2020)
- میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگگیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئےRahat Indori (1950–2020)
- میں مر جاؤں تو میری ایک الگ پہچان لکھ دینالہو ث میری پیشانی پے ہندستان لکھ دیناRahat Indori (1950–2020)
- وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرامیں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیاRahat Indori (1950–2020)
- ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیںمحبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- ہمارے میر تقی میرؔ نے کہا تھا کبھیمیاں یہ عاشقی عزت بگاڑ دیتی ہےRahat Indori (1950–2020)
- اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیںکہ میرے شہر میں اس کا مکان بھی تو نہیںZafar Zaidi (1950–1983)
- اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائےجاگتے رہیے یہاں تک کہ سویرا ہو جائےZafar Zaidi (1950–1983)
- اس طرح ٹوٹ کر گرا پانیبادلوں میں نہیں بچا پانیZafar Zaidi (1950–1983)
- اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائےجس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائےZafar Zaidi (1950–1983)
- بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھاکہ شوق بھی تو اسے چاند کے سفر کا تھاZafar Zaidi (1950–1983)
- بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گابس کسی کے نام کا پتھر لگا رہ جائے گاZafar Zaidi (1950–1983)
- تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میںسو تھک کے بیٹھ گیا راستے میں آخر میںZafar Zaidi (1950–1983)
- جو تاب دید ملی بھی تو کیا دکھائی دیادلوں کے بیچ عجب فاصلہ دکھائی دیاZafar Zaidi (1950–1983)
- چند فقرے زیر لب تڑپا کیےوہ ہمیں اور ہم انہیں دیکھا کیےZafar Zaidi (1950–1983)
- حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوںمیں تشنگی میں بھی سمت سراب کیوں دیکھوںZafar Zaidi (1950–1983)
- دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگامیں اپنے آپ سے خود ہی لپٹ کے رونے لگاZafar Zaidi (1950–1983)
- رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہےآگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہےوہ اپنے گاؤں میں جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- کھڑکیاں کھولیں تو مجھ کو آج اندازہ ہوامیرا ہی سایہ تھا وہ دیوار سے لپٹا ہواZafar Zaidi (1950–1983)
- نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہےمگر وہ سوکھا ہوا پیڑ گھر میں باقی ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- ہر ایک دن تھا اسی کا ہر ایک رات اس کیمرے بدن میں رہی مدتوں حیات اس کیZafar Zaidi (1950–1983)