Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیںاور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
  2. کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہویہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہوRahat Indori (1950–2020)
  3. کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسےجہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسےRahat Indori (1950–2020)
  4. گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہےاب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہےRahat Indori (1950–2020)
  5. لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیںاتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیںRahat Indori (1950–2020)
  6. مجھے ڈبو کے بہت شرمسار رہتی ہےوہ ایک موج جو دریا کے پار رہتی ہےRahat Indori (1950–2020)
  7. محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گایہ پل صراط اگر ہے تو چل کے دیکھوں گاRahat Indori (1950–2020)
  8. مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھادیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھاRahat Indori (1950–2020)
  9. میرے اشکوں نے کئی آنکھوں میں جل تھل کر دیاایک پاگل نے بہت لوگوں کو پاگل کر دیاRahat Indori (1950–2020)
  10. میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دوآسماں لائے ہو لے آؤ زمیں پر رکھ دوRahat Indori (1950–2020)
  11. میرے کاروبار میں سب نے بڑی امداد کیداد لوگوں کی گلا اپنا غزل استاد کیRahat Indori (1950–2020)
  12. میں لاکھ کہہ دوں کہ آکاش ہوں زمیں ہوں میںمگر اسے تو خبر ہے کہ کچھ نہیں ہوں میںRahat Indori (1950–2020)
  13. ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میںاجالے پاؤں پٹکنے لگے ہیں پانی میںRahat Indori (1950–2020)
  14. نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گاہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گاRahat Indori (1950–2020)
  15. نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتاتو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتاRahat Indori (1950–2020)
  16. وہ اک اک بات پہ رونے لگا تھاسمندر آبرو کھونے لگا تھاRahat Indori (1950–2020)
  17. ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتےRahat Indori (1950–2020)
  18. ہم نے خود اپنی رہنمائی کیاور شہرت ہوئی خدائی کیRahat Indori (1950–2020)
  19. ہوں لاکھ ظلم مگر بد دعا نہیں دیں گےزمین ماں ہے زمیں کو دغا نہیں دیں گےRahat Indori (1950–2020)
  20. یوں صدا دیتے ہوئے تیرے خیال آتے ہیںجیسے کعبے کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
  21. یہ خاک زادے جو رہتے ہیں بے زبان پڑےاشارہ کر دیں تو سورج زمیں پہ آن پڑےRahat Indori (1950–2020)
  22. یہ سرد راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیںوہ اک لحاف میں اوڑھوں تو سردیاں اڑ جائیںRahat Indori (1950–2020)
  23. اک ملاقات کا جادو کہ اترتا ہی نہیںتری خوشبو مری چادر سے نہیں جاتی ہےRahat Indori (1950–2020)
  24. بوتلیں کھول کر تو پی برسوںآج دل کھول کر بھی پی جائےRahat Indori (1950–2020)
  25. تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکنآنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہےRahat Indori (1950–2020)
  26. تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھامجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھاRahat Indori (1950–2020)
  27. سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہےجب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہےRahat Indori (1950–2020)
  28. شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہمآندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہےRahat Indori (1950–2020)
  29. کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیےچاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہےRahat Indori (1950–2020)
  30. میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگگیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئےRahat Indori (1950–2020)
  31. میں مر جاؤں تو میری ایک الگ پہچان لکھ دینالہو ث میری پیشانی پے ہندستان لکھ دیناRahat Indori (1950–2020)
  32. وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرامیں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیاRahat Indori (1950–2020)
  33. ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیںمحبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
  34. ہمارے میر تقی میرؔ نے کہا تھا کبھیمیاں یہ عاشقی عزت بگاڑ دیتی ہےRahat Indori (1950–2020)
  35. اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیںکہ میرے شہر میں اس کا مکان بھی تو نہیںZafar Zaidi (1950–1983)
  36. اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائےجاگتے رہیے یہاں تک کہ سویرا ہو جائےZafar Zaidi (1950–1983)
  37. اس طرح ٹوٹ کر گرا پانیبادلوں میں نہیں بچا پانیZafar Zaidi (1950–1983)
  38. اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائےجس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائےZafar Zaidi (1950–1983)
  39. بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھاکہ شوق بھی تو اسے چاند کے سفر کا تھاZafar Zaidi (1950–1983)
  40. بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گابس کسی کے نام کا پتھر لگا رہ جائے گاZafar Zaidi (1950–1983)
  41. تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میںسو تھک کے بیٹھ گیا راستے میں آخر میںZafar Zaidi (1950–1983)
  42. جو تاب دید ملی بھی تو کیا دکھائی دیادلوں کے بیچ عجب فاصلہ دکھائی دیاZafar Zaidi (1950–1983)
  43. چند فقرے زیر لب تڑپا کیےوہ ہمیں اور ہم انہیں دیکھا کیےZafar Zaidi (1950–1983)
  44. حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوںمیں تشنگی میں بھی سمت سراب کیوں دیکھوںZafar Zaidi (1950–1983)
  45. دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگامیں اپنے آپ سے خود ہی لپٹ کے رونے لگاZafar Zaidi (1950–1983)
  46. رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہےآگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  47. قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہےوہ اپنے گاؤں میں جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  48. کھڑکیاں کھولیں تو مجھ کو آج اندازہ ہوامیرا ہی سایہ تھا وہ دیوار سے لپٹا ہواZafar Zaidi (1950–1983)
  49. نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہےمگر وہ سوکھا ہوا پیڑ گھر میں باقی ہےZafar Zaidi (1950–1983)
  50. ہر ایک دن تھا اسی کا ہر ایک رات اس کیمرے بدن میں رہی مدتوں حیات اس کیZafar Zaidi (1950–1983)