Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کبھی جو شب کی سیاہی سے ناگہاں گزرےہم اہل ظرف ہر اک سوچ پر گراں گزرےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  2. کوئی دانا کوئی دیوانہ ملاشہر میں ہر شخص بیگانہ ملاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  3. گھڑی بھر خلوتوں کو آنچ دے کر بجھ گیا سورجکسی کے درد کی لے پر کہاں تک ناچتا سورجChandrabhan Khayal (b. 1946)
  4. مجھ سے مل کر خود کو کیا پائے گا تواور تنہا ہو کے رہ جائے گا توChandrabhan Khayal (b. 1946)
  5. میں جہاں جاؤں مرے ساتھ چلے سناٹامیری آنکھوں میں لگاتار جلے سناٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  6. ہو نہ ہو آس پاس ہے کوئیمیرے جتنا اداس ہے کوئیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  7. آج پھر درد اٹھا دل کے نہاں خانے میںآج پھر لوگ ستانے کو چلے آئیں گےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  8. آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوتہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہوگاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  9. آوارہ گرد لمحے یوں بے قرار بھٹکیںجیسے پرند پیاسے دیوانہ وار بھٹکیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  10. اگر قریب سے دیکھو تو جان لو گی تمجہاں ہے سانپ کی صورت وجود سے لپٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  11. بستی کی بیمار گلی میںشہنائی جب جب گونجی ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  12. پھیل کر پھر شب تاریک ہوئی بحر سیاہقطرہ قطرہ لب تنہائی سے ٹپکے احساسChandrabhan Khayal (b. 1946)
  13. تنہا بیٹھا ہوں کمرے میں ماضی کی تصویر لیےاب تو انجانے قدموں کی آہٹ سے جی ڈرتا ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  14. جنگ دھرتی پہ ستاروں کے لیے جاری ہےحیف صد حیف کہ ہر شے پہ جنوں طاری ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  15. دل پہاڑوں پر چلا جائے کہ میدانوں میں ہوبھیڑ میں لوگوں کی یا خالی شبستانوں میں ہوChandrabhan Khayal (b. 1946)
  16. دلوں میں درد دماغوں میں کشمکش کا دھواںجبیں پہ خاک نگاہوں میں غم کی تاریکیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  17. سب کچھ یاد کر رہا ہوں میںکوئی بات بھلا دینے کوChandrabhan Khayal (b. 1946)
  18. قریب صبح صدائے شکست جاں ابھریلبوں کا زہر اچانک پگھل گیا آخرChandrabhan Khayal (b. 1946)
  19. کھوکھلے سینوں میں بہتا ہے مسیحائی عذابخیر و شر کے مسئلے سب آج بھی ہم دوش ہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  20. لمحہ لمحہ خونیں خنجرصدیاں جیبھیں ہیں سانپوں کیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  21. لہو نوش لمحوں کے بیدار سائےاسے گھیر لیں گے سنانیں اٹھائےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  22. میری پسلی میں جما ہے کئی شہروں کا سکوتجیسے سویا ہو کسی غار میں تہذیب کا بھوتChandrabhan Khayal (b. 1946)
  23. نیند کے تعاقب میںدور دور تک لا حاصلChandrabhan Khayal (b. 1946)
  24. سوختہ جاں سوختہ دلسوختہ روحوں کے گھر میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  25. لے گیا وہ چھین کر میری جوانیاس پہ بس یوں ہی جھپٹ کر رہ گیا میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  26. ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھےکن مرحلوں میں چھوڑ گیا کارواں مجھےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  27. ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہےیہ بعد میں سہی کس بات سے مکرنا ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
  28. اپنا سارا بوجھ زمیں پر پھینک دیاتجھ کو خط لکھا اور لکھ کر پھینک دیاIftikhar Naseem (1946–2011)
  29. اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھخواہشیں لپٹی ہوں جیسے بند دروازوں کے ساتھIftikhar Naseem (1946–2011)
  30. اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھوتھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھوIftikhar Naseem (1946–2011)
  31. اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگاآسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگاIftikhar Naseem (1946–2011)
  32. بن گیا ہے جسم گزرے قافلوں کی گرد ساکتنا ویراں کر گیا مجھ کو مرا ہم درد ساIftikhar Naseem (1946–2011)
  33. پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہاجنگ تھی باہر گلی میں میں غزل کہتا رہاIftikhar Naseem (1946–2011)
  34. تیری آنکھوں کی چمک بس اور اک پل ہے ابھیدیکھ لے اس چاند کو کچھ دور بادل ہے ابھیIftikhar Naseem (1946–2011)
  35. جانے والوں کے لیے تو اور کیا لے جائے گادیکھ لے دنیا جہاں تک راستہ لے جائے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
  36. جلا وطن ہوں مرا گھر پکارتا ہے مجھےاداس نام کھلا در پکارتا ہے مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
  37. چاند پھر تاروں کی اجلی ریز گاری دے گیارات کو یہ بھیک کیسی خود بھکاری دے گیاIftikhar Naseem (1946–2011)
  38. خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھےجیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
  39. رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیںچھوڑ آؤ اس کو گھر تک راستا اچھا نہیںIftikhar Naseem (1946–2011)
  40. سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کرزبان لے گیا میری مجھے نظر دے کرIftikhar Naseem (1946–2011)
  41. سورج نئے برس کا مجھے جیسے ڈس گیاتجھ سے ملے ہوئے مجھے یہ بھی برس گیاIftikhar Naseem (1946–2011)
  42. کسی کے حق میں سہی فیصلہ ہوا تو ہےمرا نہیں وہ کسی شخص کا ہوا تو ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
  43. گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کرمحاذ زیست سے لوٹا ہوں سرخ رو ہو کرIftikhar Naseem (1946–2011)
  44. لگے گا اجنبی اب کیوں نہ شہر بھر مجھ کوبچا گیا ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کوIftikhar Naseem (1946–2011)
  45. مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گامرا سفر ہی مرے فاصلے بڑھا دے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
  46. مشعل امید تھامو رہ نما جیسا بھی ہےاب تو چلنا ہی پڑے گا راستا جیسا بھی ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
  47. نام بھی جس کا زباں پر تھا دعاؤں کی طرحوہ مجھے ملتا رہا نا آشناؤں کی طرحIftikhar Naseem (1946–2011)
  48. نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھناگئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھناIftikhar Naseem (1946–2011)
  49. نہ ہو کہ قرب ہی پھر ربط مرگ بن جائےوو اب ملے تو ذرا اس ث فاصلہ رکھناIftikhar Naseem (1946–2011)
  50. ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائےہے بہت لمبا سفر یوں تو نہ ڈرتا جائےIftikhar Naseem (1946–2011)