Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. وقت کی تیز روی دیکھ کے ڈر جاتے ہیںلوگ جیتے ہیں کچھ اس طرح کہ مر جاتے ہیںRaees Akhtar (b. 1935)
  2. ہم کہاں اور دل خراب کہاںاے شب غم ترا جواب کہاںRaees Akhtar (b. 1935)
  3. ہمیں تو ایک ہی چہرہ دکھائی دیتا ہےجسے بھی دیکھیے اپنا دکھائی دیتا ہےRaees Akhtar (b. 1935)
  4. اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کےکافر بھی حقیقت میں ہیں انسان خدا کےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  5. اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہممانگے اگر تو جان بھی دیں گے خوشی سے ہمDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  6. جان کو خطرہ کبھی ایمان کوکوئی سمجھائے دل نادان کوDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  7. چاہے مانو برا ہم نہیں مانتےپتھروں کو خدا ہم نہیں مانتےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  8. دنیا کے مسائل سے ہر وقت گھرا ہونامشکل تو بہت ہوگا دنیا کا خدا ہوناDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  9. سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائےجا کے تم چاند سے لائے بھی تو پتھر لائےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  10. عشق رسم و رواج کیا سمجھےدل کی باتیں سماج کیا سمجھےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  11. غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہےمشکلوں میں اپنا کب اپنا رہےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  12. کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کوفائدے سے بھی زیادہ ہوا نقصاں ہم کوDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  13. کوئی مشکل نہیں انساں ہوناآدمی سیکھ لے ناداں ہوناDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  14. کیا کرے یا نہ کیا کرے کوئیچپ رہے یا گلہ کرے کوئیDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  15. ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملییا رب صلہ ملا ہے مجھے یا سزا ملیDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  16. درد اب دل کی دوا ہو جیسےزندگی ایک سزا ہو جیسےIftikhar Aazmi (1935–1977)
  17. رہ وفا سے میں اک گام بھی ہٹا تو نہیںلہولہان ہوا ہوں مگر ڈرا تو نہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  18. شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریبرک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریبIftikhar Aazmi (1935–1977)
  19. مقتل کے اس سکوت پہ حیرت ہے کیا کہیںایسی فضا تو ہو کہ جسے کربلا کہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  20. شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرفلوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدمIftikhar Aazmi (1935–1977)
  21. وہ لمحہوہ پر شوق و پرسوز لمحہIftikhar Aazmi (1935–1977)
  22. اس شہر میں شام ہوتے ہی گلیوں کے نکڑ پرسڑکوں کے کنارے زندہ دل لوگIftikhar Aazmi (1935–1977)
  23. بند آنکھیں کیے سر ساحلکل سحر دم یہ سوچتا تھا میںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  24. دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجومبے خبر ماحول سےIftikhar Aazmi (1935–1977)
  25. دنیا ایک کنواری ماں ہےہم سب ہیں ناجائز بچےIftikhar Aazmi (1935–1977)
  26. زمانے کے صحرا میں گلے سے بچھڑی ہوئی بھیڑتنہا پشیماں ہراساں ہراساںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  27. میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر چبھنہر طرف تیرہ شبی، ہر طرف ایک گھٹنIftikhar Aazmi (1935–1977)
  28. اپنے نائی کا ہنر یاد آیاہم نے منڈوایا تھا سر یاد آیاT N Raaz (b. 1935)
  29. خنجر نے ہی چھوڑا تھا نہ مرنے میں گماں اورکیوں لائے مرے قتل کو وہ تیر و کماں اورT N Raaz (b. 1935)
  30. رات کا سناٹا ہو اور رازداں کوئی نہ ہوبیویاں تنہا ہی گھومیں اور میاں کوئی نہ ہوT N Raaz (b. 1935)
  31. غالبؔ کی ہر زمیں میں خرافات چاہئےتخریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئےT N Raaz (b. 1935)
  32. کیا خوب ہے جنت کا تماشا مرے آگےبیوی کو برا کہتا ہے سالا مرے آگےT N Raaz (b. 1935)
  33. میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہےحسن کی لائٹ سے میری آنکھ چندھیا جائے ہےT N Raaz (b. 1935)
  34. آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیےمیں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیےShahryar (1936–2012)
  35. آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہواخوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہواShahryar (1936–2012)
  36. آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہےیہ رائے اکیلی میری نہیں ہے سب کی ہےShahryar (1936–2012)
  37. امید سے کم چشم خریدار میں آئےہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئےShahryar (1936–2012)
  38. ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیںان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیںShahryar (1936–2012)
  39. ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیںتیرے علاوہ یاد ہمیں سب آتے ہیںShahryar (1936–2012)
  40. بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئیاک مدت سے ہجر کی لمبی رات نہیں آئیShahryar (1936–2012)
  41. بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کوآوارہ ہیں اور دشت کا سودا نہیں ہم کوShahryar (1936–2012)
  42. پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں راتیوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں راتShahryar (1936–2012)
  43. تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیںزندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
  44. تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کوکب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کوShahryar (1936–2012)
  45. تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیںمیرے جسم کے سارے علاقے جل تھل ہو جائیںShahryar (1936–2012)
  46. تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھامیں ورنہ یوں ہجر سے کب گھبرانے والا تھاShahryar (1936–2012)
  47. تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گاآج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گاShahryar (1936–2012)
  48. جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہےکتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہےShahryar (1936–2012)
  49. جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہےزندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہےShahryar (1936–2012)
  50. جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھااک ایسا موڑ بھی ہماری رات میں آنا تھاShahryar (1936–2012)