Poetry
Poet
Meter
- وقت کی تیز روی دیکھ کے ڈر جاتے ہیںلوگ جیتے ہیں کچھ اس طرح کہ مر جاتے ہیںRaees Akhtar (b. 1935)
- ہم کہاں اور دل خراب کہاںاے شب غم ترا جواب کہاںRaees Akhtar (b. 1935)
- ہمیں تو ایک ہی چہرہ دکھائی دیتا ہےجسے بھی دیکھیے اپنا دکھائی دیتا ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- اس بات کو بھولیں نہ مسلمان خدا کےکافر بھی حقیقت میں ہیں انسان خدا کےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہممانگے اگر تو جان بھی دیں گے خوشی سے ہمDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- جان کو خطرہ کبھی ایمان کوکوئی سمجھائے دل نادان کوDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- چاہے مانو برا ہم نہیں مانتےپتھروں کو خدا ہم نہیں مانتےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- دنیا کے مسائل سے ہر وقت گھرا ہونامشکل تو بہت ہوگا دنیا کا خدا ہوناDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائےجا کے تم چاند سے لائے بھی تو پتھر لائےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- عشق رسم و رواج کیا سمجھےدل کی باتیں سماج کیا سمجھےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہےمشکلوں میں اپنا کب اپنا رہےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کوفائدے سے بھی زیادہ ہوا نقصاں ہم کوDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- کوئی مشکل نہیں انساں ہوناآدمی سیکھ لے ناداں ہوناDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- کیا کرے یا نہ کیا کرے کوئیچپ رہے یا گلہ کرے کوئیDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملییا رب صلہ ملا ہے مجھے یا سزا ملیDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- درد اب دل کی دوا ہو جیسےزندگی ایک سزا ہو جیسےIftikhar Aazmi (1935–1977)
- رہ وفا سے میں اک گام بھی ہٹا تو نہیںلہولہان ہوا ہوں مگر ڈرا تو نہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریبرک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریبIftikhar Aazmi (1935–1977)
- مقتل کے اس سکوت پہ حیرت ہے کیا کہیںایسی فضا تو ہو کہ جسے کربلا کہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرفلوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدمIftikhar Aazmi (1935–1977)
- وہ لمحہوہ پر شوق و پرسوز لمحہIftikhar Aazmi (1935–1977)
- اس شہر میں شام ہوتے ہی گلیوں کے نکڑ پرسڑکوں کے کنارے زندہ دل لوگIftikhar Aazmi (1935–1977)
- بند آنکھیں کیے سر ساحلکل سحر دم یہ سوچتا تھا میںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجومبے خبر ماحول سےIftikhar Aazmi (1935–1977)
- دنیا ایک کنواری ماں ہےہم سب ہیں ناجائز بچےIftikhar Aazmi (1935–1977)
- زمانے کے صحرا میں گلے سے بچھڑی ہوئی بھیڑتنہا پشیماں ہراساں ہراساںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر چبھنہر طرف تیرہ شبی، ہر طرف ایک گھٹنIftikhar Aazmi (1935–1977)
- اپنے نائی کا ہنر یاد آیاہم نے منڈوایا تھا سر یاد آیاT N Raaz (b. 1935)
- خنجر نے ہی چھوڑا تھا نہ مرنے میں گماں اورکیوں لائے مرے قتل کو وہ تیر و کماں اورT N Raaz (b. 1935)
- رات کا سناٹا ہو اور رازداں کوئی نہ ہوبیویاں تنہا ہی گھومیں اور میاں کوئی نہ ہوT N Raaz (b. 1935)
- غالبؔ کی ہر زمیں میں خرافات چاہئےتخریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئےT N Raaz (b. 1935)
- کیا خوب ہے جنت کا تماشا مرے آگےبیوی کو برا کہتا ہے سالا مرے آگےT N Raaz (b. 1935)
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہےحسن کی لائٹ سے میری آنکھ چندھیا جائے ہےT N Raaz (b. 1935)
- آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیےمیں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیےShahryar (1936–2012)
- آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہواخوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہواShahryar (1936–2012)
- آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہےیہ رائے اکیلی میری نہیں ہے سب کی ہےShahryar (1936–2012)
- امید سے کم چشم خریدار میں آئےہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئےShahryar (1936–2012)
- ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیںان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیںShahryar (1936–2012)
- ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیںتیرے علاوہ یاد ہمیں سب آتے ہیںShahryar (1936–2012)
- بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئیاک مدت سے ہجر کی لمبی رات نہیں آئیShahryar (1936–2012)
- بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کوآوارہ ہیں اور دشت کا سودا نہیں ہم کوShahryar (1936–2012)
- پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں راتیوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں راتShahryar (1936–2012)
- تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیںزندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
- تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کوکب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کوShahryar (1936–2012)
- تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیںمیرے جسم کے سارے علاقے جل تھل ہو جائیںShahryar (1936–2012)
- تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھامیں ورنہ یوں ہجر سے کب گھبرانے والا تھاShahryar (1936–2012)
- تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گاآج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گاShahryar (1936–2012)
- جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہےکتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہےShahryar (1936–2012)
- جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہےزندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہےShahryar (1936–2012)
- جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھااک ایسا موڑ بھی ہماری رات میں آنا تھاShahryar (1936–2012)