Poetry
Poet
Meter
- جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نےShahryar (1936–2012)
- جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگاسمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگاShahryar (1936–2012)
- جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگاترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگاShahryar (1936–2012)
- دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہوخواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہوShahryar (1936–2012)
- دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئےبس ایک بار میرا کہا مان لیجئےShahryar (1936–2012)
- دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہےنوک خنجر ہی بتائے گی کہ خوں کتنا ہےShahryar (1936–2012)
- دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھےپھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھےShahryar (1936–2012)
- زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سےخوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سےShahryar (1936–2012)
- زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیںیہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
- زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہےہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہےShahryar (1936–2012)
- سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کاکہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کاShahryar (1936–2012)
- سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کایہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کاShahryar (1936–2012)
- سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہےاس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہےShahryar (1936–2012)
- شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کومیں دیکھتا رہا دریا تری روانی کوShahryar (1936–2012)
- شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےرشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہےShahryar (1936–2012)
- طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہواوہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہواShahryar (1936–2012)
- عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارومیں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یاروShahryar (1936–2012)
- کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہےدل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہےShahryar (1936–2012)
- کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیاغیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیاShahryar (1936–2012)
- کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیںیہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیںShahryar (1936–2012)
- مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائےجشن ہو جائے ذرا دھوم مچا لی جائےShahryar (1936–2012)
- نظر جو کوئی بھی تجھ سا حسیں نہیں آتاکسی کو کیا مجھے خود بھی یقیں نہیں آتاShahryar (1936–2012)
- وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہےمگر ہمیں تو وہی ایک شخص بھاتا ہےShahryar (1936–2012)
- ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کےآندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کےShahryar (1936–2012)
- ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھاسخت کتنا مرحلہ تجھ سے جدا ہونے کا تھاShahryar (1936–2012)
- ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہےاگر چراغ کسی کو جلانا ہوتا ہےShahryar (1936–2012)
- یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہےShahryar (1936–2012)
- یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارادن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہماراShahryar (1936–2012)
- یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والیفرصت عشق میسر کہاں پہلے والیShahryar (1936–2012)
- یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتےاک پل بھی اگر بھول سے ہم سو گئے ہوتےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہےحد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہےترے بغیر بھی یہ رات ڈھلتی جاتی ہےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتامیں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتاShahryar (1936–2012)
- ابھی نہیں ابھی زنجیر خواب برہم ہےابھی نہیں ابھی دامن کے چاک کا غم ہےShahryar (1936–2012)
- اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیںبلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کیShahryar (1936–2012)
- اندھیری رات کی اس رہ گزر پرہمارے ساتھ کوئی اور بھی تھاShahryar (1936–2012)
- اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھرShahryar (1936–2012)
- برف بے موسم گریچٹان سے میدان تکShahryar (1936–2012)
- بوتل کے اندر کا جننکلے تو اس سے پوچھیںShahryar (1936–2012)
- جو کچے رستوں سے پکی سڑکوں کا رخ کیا تھاکھڑاؤں اپنی اتار دیتےShahryar (1936–2012)
- دروازۂ جاں سے ہو کرچپکے سے ادھر آ جاؤShahryar (1936–2012)
- دن کے صحرا سے جب بنی جاں پرایک مبہم سا آسرا پا کرShahryar (1936–2012)
- دھول میں لپٹے چہرے والامیرا سایہShahryar (1936–2012)
- رات کا بیتنا دن کا آناکون سی ایسی نئی بات ہےShahryar (1936–2012)
- رات کی کھلی کھڑکیبند ہونے والی ہےShahryar (1936–2012)
- ریت کو نچوڑ کر پانی کو نکالنابہت عجیب کام ہےShahryar (1936–2012)
- ریت مٹھی میں کبھی ٹھہری ہےپیاس سے اس کو علاقہ کیا ہےShahryar (1936–2012)
- زرد بلبوں کے بازوؤں میں اسیرسخت بے جان لمبی کالی سڑکShahryar (1936–2012)
- سوتے سوتے چونک اٹھی جب پلکوں کی جھنکارآبادی پر ویرانے کا ہونے لگا گمانShahryar (1936–2012)
- کٹتی نہیں سرد راتڈھلتی نہیں زرد راتShahryar (1936–2012)