Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نےShahryar (1936–2012)
  2. جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگاسمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگاShahryar (1936–2012)
  3. جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگاترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگاShahryar (1936–2012)
  4. دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہوخواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہوShahryar (1936–2012)
  5. دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئےبس ایک بار میرا کہا مان لیجئےShahryar (1936–2012)
  6. دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہےنوک خنجر ہی بتائے گی کہ خوں کتنا ہےShahryar (1936–2012)
  7. دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھےپھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھےShahryar (1936–2012)
  8. زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سےخوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سےShahryar (1936–2012)
  9. زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیںیہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
  10. زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہےہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہےShahryar (1936–2012)
  11. سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کاکہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کاShahryar (1936–2012)
  12. سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کایہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کاShahryar (1936–2012)
  13. سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہےاس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہےShahryar (1936–2012)
  14. شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کومیں دیکھتا رہا دریا تری روانی کوShahryar (1936–2012)
  15. شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےرشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہےShahryar (1936–2012)
  16. طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہواوہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہواShahryar (1936–2012)
  17. عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارومیں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یاروShahryar (1936–2012)
  18. کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہےدل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہےShahryar (1936–2012)
  19. کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیاغیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیاShahryar (1936–2012)
  20. کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیںیہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیںShahryar (1936–2012)
  21. مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائےجشن ہو جائے ذرا دھوم مچا لی جائےShahryar (1936–2012)
  22. نظر جو کوئی بھی تجھ سا حسیں نہیں آتاکسی کو کیا مجھے خود بھی یقیں نہیں آتاShahryar (1936–2012)
  23. وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہےمگر ہمیں تو وہی ایک شخص بھاتا ہےShahryar (1936–2012)
  24. ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کےآندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کےShahryar (1936–2012)
  25. ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھاسخت کتنا مرحلہ تجھ سے جدا ہونے کا تھاShahryar (1936–2012)
  26. ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہےاگر چراغ کسی کو جلانا ہوتا ہےShahryar (1936–2012)
  27. یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہےShahryar (1936–2012)
  28. یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارادن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہماراShahryar (1936–2012)
  29. یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والیفرصت عشق میسر کہاں پہلے والیShahryar (1936–2012)
  30. یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتےاک پل بھی اگر بھول سے ہم سو گئے ہوتےShahryar (1936–2012)
  31. یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہےحد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہےShahryar (1936–2012)
  32. یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہےترے بغیر بھی یہ رات ڈھلتی جاتی ہےShahryar (1936–2012)
  33. یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتامیں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتاShahryar (1936–2012)
  34. ابھی نہیں ابھی زنجیر خواب برہم ہےابھی نہیں ابھی دامن کے چاک کا غم ہےShahryar (1936–2012)
  35. اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیںبلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کیShahryar (1936–2012)
  36. اندھیری رات کی اس رہ گزر پرہمارے ساتھ کوئی اور بھی تھاShahryar (1936–2012)
  37. اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھرShahryar (1936–2012)
  38. برف بے موسم گریچٹان سے میدان تکShahryar (1936–2012)
  39. بوتل کے اندر کا جننکلے تو اس سے پوچھیںShahryar (1936–2012)
  40. جو کچے رستوں سے پکی سڑکوں کا رخ کیا تھاکھڑاؤں اپنی اتار دیتےShahryar (1936–2012)
  41. دروازۂ جاں سے ہو کرچپکے سے ادھر آ جاؤShahryar (1936–2012)
  42. دن کے صحرا سے جب بنی جاں پرایک مبہم سا آسرا پا کرShahryar (1936–2012)
  43. دھول میں لپٹے چہرے والامیرا سایہShahryar (1936–2012)
  44. رات کا بیتنا دن کا آناکون سی ایسی نئی بات ہےShahryar (1936–2012)
  45. رات کی کھلی کھڑکیبند ہونے والی ہےShahryar (1936–2012)
  46. ریت کو نچوڑ کر پانی کو نکالنابہت عجیب کام ہےShahryar (1936–2012)
  47. ریت مٹھی میں کبھی ٹھہری ہےپیاس سے اس کو علاقہ کیا ہےShahryar (1936–2012)
  48. زرد بلبوں کے بازوؤں میں اسیرسخت بے جان لمبی کالی سڑکShahryar (1936–2012)
  49. سوتے سوتے چونک اٹھی جب پلکوں کی جھنکارآبادی پر ویرانے کا ہونے لگا گمانShahryar (1936–2012)
  50. کٹتی نہیں سرد راتڈھلتی نہیں زرد راتShahryar (1936–2012)