Poetry
Poet
Meter
- تمہارا ذکر مری داستان بن بیٹھامیں ایک ذرہ تھا اور آسمان بن بیٹھاJagdish Prakash (b. 1935)
- جو بھی ہونا تھا وہ ہوا اچھاتو ہے اچھا ترا خدا اچھاJagdish Prakash (b. 1935)
- راہ کو آزما کے دیکھو تواک قدم پھر بڑھا کے دیکھو توJagdish Prakash (b. 1935)
- شاہراہیں نہیں ڈگر تو ہےمنزلیں نا سہی سفر تو ہےJagdish Prakash (b. 1935)
- مرا وجود مرے اعتبار جیسا ہےکبھی وصال کبھی انتظار جیسا ہےJagdish Prakash (b. 1935)
- مری زندگی ہے سراب سی کبھی موجزن کبھی تشنہ دمکبھی انتظار کی دھوپ سی کبھی قربتوں کا کوئی بھرمJagdish Prakash (b. 1935)
- میں نے سانسوں سے گفتگو کی ہےساتھ چلنے کی آرزو کی ہےJagdish Prakash (b. 1935)
- میں تو اک وجود خیال ہوںمجھے جس طرح سے بھی سوچ لوJagdish Prakash (b. 1935)
- ہم نے بھی چاہا تھا بہت کچھہم نے بھی کچھ مانگا تھاJagdish Prakash (b. 1935)
- ہاتھ میں تابوت تھامے ان دنوں کےجن دنوں اس لالٹینوں کی گلی میںJagdish Prakash (b. 1935)
- بس اک میں ہوںبس اک تم ہوJagdish Prakash (b. 1935)
- تنہائی کو خواب کی دستک دیتے دیکھادیکھا اک گنبد کے نیچےJagdish Prakash (b. 1935)
- اجنبی رہ گزر کے تھے ہی نہیںہم جدھر تھے ادھر کے تھے ہی نہیںG R Kanwal (b. 1935)
- انا کی قید سے آزاد ہو کر کیوں نہیں آتاجو باہر ہے وہ میرے دل کے اندر کیوں نہیں آتاG R Kanwal (b. 1935)
- پہلے احباب کی کہانی لکھپھر ہر اک لفظ کے معانی لکھG R Kanwal (b. 1935)
- تجھ سے بچھڑے بھی تو حالات نے رونے نہ دیادل شکن وقت کے لمحات نے رونے نہ دیاG R Kanwal (b. 1935)
- جس کی بنیاد ہو جوانی پردیر لگتی ہے اس کہانی پرG R Kanwal (b. 1935)
- جہاں میں ہوں وہاں حالات کا منظر نہیں بدلاوہی ہیں چاند تارے رات کا منظر نہیں بدلاG R Kanwal (b. 1935)
- دریچہ ہو کہ در الجھا ہوا ہےمرا تو گھر کا گھر الجھا ہوا ہےG R Kanwal (b. 1935)
- دن مہینہ سال بہتر ہو گیارفتہ رفتہ حال بہتر ہو گیاG R Kanwal (b. 1935)
- فقیرانہ صدا خاموش کیوں ہےقلندر کی نوا خاموش کیوں ہےG R Kanwal (b. 1935)
- گھر نہیں رہ گزر میں رہتا ہےپاؤں میرا سفر میں رہتا ہےG R Kanwal (b. 1935)
- ماہ کتنے ہیں سال کتنے ہیںہجر کتنے وصال کتنے ہیںG R Kanwal (b. 1935)
- نئے انداز سے دیدار کر لوں پھر چلے جانامیں اپنی روح کو بیدار کر لوں پھر چلے جاناG R Kanwal (b. 1935)
- وہ ستم گر جدھر گیا ہوگااک زمانہ ادھر گیا ہوگاG R Kanwal (b. 1935)
- ہو نوشتہ یہ بھی جیسے کاتب تقدیر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کاG R Kanwal (b. 1935)
- اب تو یہ سوچ کے بھی دل مرا گھبراتا ہےصبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آتا ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- اک انجان راہ پر دونوںمل گئے آج بے خطر دونوںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- اے دشت شب گزار تری آس کا ہرنکھائی میں یاس کی جو گرا رو پڑی پونM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- تمہارے پیکر سے پھوٹنے والی روشنی میری راہ میں ہےیہ فاصلہ اس لئے گوارا کہ اک حقیقت نگاہ میں ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گےہمارے خواب تری آنکھ میں جب آئیں گےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- دراز قامت دراز گیسو عجیب سا اک نگار تھا وہگلوں کی باگ اس کے ہاتھ میں تھی ہواؤں پر جب سوار تھا وہM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- درد کو درد سے نسبت ہوگیکیوں سوچیں کہ محبت ہوگیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہےیہ پیڑ جو اس راہ میں صدیوں سے کھڑا ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- عقاب فکر اکیلا ہے برف زاروں میںکہ چاند جاڑے کا جیسے لرزتے تاروں میںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- فسوں کر گئی رات پاگل ہوااڑا لے گئی سرخ آنچل ہواM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سےاور ذرا غم بھی لے آئیں یادوں کے ویرانے سےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- گھوموں نہیں تو کیا میں کہیں جا کے پڑ رہوںبیمار آدمی کی طرح رات کاٹ دوںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- ہجر کا چاند درد کی ندییہی صورت ہے اپنی دنیا کیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- یاس مکان دل سے نکل کر کونے کونے جلنے والیدرماندہ سی لوٹ آئی ہے رات ہے شاید ڈھلنے والیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہےسوچوں گا کہاں تم سے ملاقات ہوئی ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- ایک دھوکہ ہے دل کشی کیا ہےہم سمجھتے ہیں دوستی کیا ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریںزخموں کی انجمن نہ سجائیں تو کیا کریںRaees Akhtar (b. 1935)
- جانے کس واسطے دل چشم کرم مانگے ہےزندگی آپ سے پھر دیدۂ نم مانگے ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- دنیا سے آج جذب وفا مانگتا ہوں میںیہ جرم ہے اگر تو سزا مانگتا ہوں میںRaees Akhtar (b. 1935)
- شہر غزل میں بکنے کو تیار کون ہےیوسف نہیں تو زینت بازار کون ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرحملے ہیں اشک بھی ہم کو یہاں ہنسی کی طرحRaees Akhtar (b. 1935)
- کہیں شرمندہ نہ ہو رسم وفا میرے بعدمیرے ماضی کو نہ دو میری سزا میرے بعدRaees Akhtar (b. 1935)
- لب پہ اک نام جب آتا ہے تو رو لیتے ہیںکوئی جی بھر کے رلاتا ہے تو رو لیتے ہیںRaees Akhtar (b. 1935)
- نشاط منزل قلب و نظر کو یاد کروسفر میں اپنے کسی ہم سفر کو یاد کروRaees Akhtar (b. 1935)