کیا کرے یا نہ کیا کرے کوئی

Darshan Dayal Parwaz (b. 1935)

کیا کرے یا نہ کیا کرے کوئی

چپ رہے یا گلہ کرے کوئی

کس کا شکوہ گلہ کرے کوئی

کوئی داؤد ٹھاکرے کوئی

آئے کیا کیا مرے تصور میں

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

اس قدر ہیں بھرشٹ سرکاریں

کیوں نہ محشر بپا کرے کوئی

رونے بھی چین سے نہیں دیتے

غم گساروں کا کیا کرے کوئی

کوئی امید ہے نہ امکاں ہے

ایسی صورت میں کیا کرے کوئی

تو نے پروازؔ کیا کسی کا کیا

کیوں تری واہ وا کرے کوئی