Poetry
Poet
Meter
- خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نےبھروسہ کر لیا کاغذ کی ناؤ پر ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- خود ہی یہ درد سر قبول کیاہر عذاب سفر قبول کیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
- خوش ہوں کب دل کی داستاں کہہ کرکیا ملے گا یہاں وہاں کہہ کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
- خوشی کا دوسرا پہلو ہے اور غم کیا ہےنفس کی آمد و شد ہی تو ہے یہ دم کیا ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بسمجھ سے کچھ اور بھی پوچھیں گے سوالات کہ بسOm Krishn Rahat (b. 1925)
- دکھ بھی سہے الم بھی سہے رنج بھی سہےپھر بھی بشر خدا کو خدا مانتا رہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- رکھئے زبان خار ہماری زباں کے ساتھاس کا بیاں ملے گا ہمارے بیاں کے ساتھOm Krishn Rahat (b. 1925)
- رونا زار و قطار چھوڑ دیاہم نے یہ کاروبار چھوڑ دیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
- سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دوجی نہیں مانتا مگر رکھ دوOm Krishn Rahat (b. 1925)
- سمجھ کے سارے سہاروں کو رائیگاں ہم نےاتار پھینکا ہے کشتی کا بادباں ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- شعر کیا ہے غبار خاطر ہےطائر فکر کا کوئی پر ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- غم و اندوہ کا سینے میں سمندر لے کرجئے جاتا ہوں مگر ہاتھ میں ساغر لے کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
- کون اب ان کی انجمن میں نہیںچپ ہیں جیسے زباں دہن میں نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- کوئی تو اس کا اہل ہو یہ جام کس کو دیںدو گھونٹ بچ گئی تھی جو کل شام کس کو دیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- کہیں بھی آپ کا راحتؔ کوئی مقام نہیںگناہ گاروں کی فہرست میں بھی نام نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- گھٹ کے رہ جاتی ہیں سینے میں صدائیں کتنیجم گئی ہیں میرے ہونٹوں پہ دعائیں کتنیOm Krishn Rahat (b. 1925)
- لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میںہم نے تو رکھی تھی ماتھے کی شکن گٹھری میںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھاور اس کے بارے میں لکھا نہیں کتاب میں کچھOm Krishn Rahat (b. 1925)
- میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گاسر جھکا تو سر کو سجدوں کا نشہ ہو جائے گاOm Krishn Rahat (b. 1925)
- ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجودکعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجودOm Krishn Rahat (b. 1925)
- جو دل پر بوجھ ہے یا رب ذرا بھی کم نہیں ہوتازمانہ غم تو دیتا ہے شریک غم نہیں ہوتاChaman Bhatnagar (b. 1925)
- ترے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیںمگر سوال جو پیدا ہوا جواب کے بعدGhani Dehlvi (b. 1925)
- آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئیآپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئیQaisarul Jafri (1926–2005)
- اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گاچاند نکلا بھی تو چپ چاپ گزر جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
- اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہمکچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
- بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیںپہلے انہی گلیوں میں نغموں کی دکانیں تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھےسورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھےQaisarul Jafri (1926–2005)
- بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگےشام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
- پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہودنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہوQaisarul Jafri (1926–2005)
- پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گریمیں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گریQaisarul Jafri (1926–2005)
- تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیاشب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیاQaisarul Jafri (1926–2005)
- تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہواپھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہواQaisarul Jafri (1926–2005)
- تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہممل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
- تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتاجاؤ اب یوں بھی تعلق نہیں توڑا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
- تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
- تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کراگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کرQaisarul Jafri (1926–2005)
- ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتیاب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتیQaisarul Jafri (1926–2005)
- جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھےمرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھےQaisarul Jafri (1926–2005)
- چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھامیں نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہےاپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئےوہ اتنی دور ہو گئے کہ فاصلے سمٹ گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
- دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھامیں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھیدیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھیQaisarul Jafri (1926–2005)
- دل بے تب و تاب ہو گیا ہےآئینہ خراب ہو گیا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جابام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جاQaisarul Jafri (1926–2005)
- دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہےہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
- ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگایہ کنارا یہ سمندر یہ بھنور کیسا لگاQaisarul Jafri (1926–2005)
- ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیاتم نے پوچھا بھی نہیں رخت سفر باندھ لیاQaisarul Jafri (1926–2005)
- زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوںجو دل پر گزرا کرتی ہے میں پردا پردا کہتا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
- زلف گھٹا بن کر رہ جائے آنکھ کنول ہو جائےشاید ان کو پل بھر سوچیں اور غزل ہو جائےQaisarul Jafri (1926–2005)