Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نےبھروسہ کر لیا کاغذ کی ناؤ پر ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  2. خود ہی یہ درد سر قبول کیاہر عذاب سفر قبول کیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
  3. خوش ہوں کب دل کی داستاں کہہ کرکیا ملے گا یہاں وہاں کہہ کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
  4. خوشی کا دوسرا پہلو ہے اور غم کیا ہےنفس کی آمد و شد ہی تو ہے یہ دم کیا ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  5. داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بسمجھ سے کچھ اور بھی پوچھیں گے سوالات کہ بسOm Krishn Rahat (b. 1925)
  6. دکھ بھی سہے الم بھی سہے رنج بھی سہےپھر بھی بشر خدا کو خدا مانتا رہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  7. رکھئے زبان خار ہماری زباں کے ساتھاس کا بیاں ملے گا ہمارے بیاں کے ساتھOm Krishn Rahat (b. 1925)
  8. رونا زار و قطار چھوڑ دیاہم نے یہ کاروبار چھوڑ دیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
  9. سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دوجی نہیں مانتا مگر رکھ دوOm Krishn Rahat (b. 1925)
  10. سمجھ کے سارے سہاروں کو رائیگاں ہم نےاتار پھینکا ہے کشتی کا بادباں ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  11. شعر کیا ہے غبار خاطر ہےطائر فکر کا کوئی پر ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  12. غم و اندوہ کا سینے میں سمندر لے کرجئے جاتا ہوں مگر ہاتھ میں ساغر لے کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
  13. کون اب ان کی انجمن میں نہیںچپ ہیں جیسے زباں دہن میں نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  14. کوئی تو اس کا اہل ہو یہ جام کس کو دیںدو گھونٹ بچ گئی تھی جو کل شام کس کو دیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  15. کہیں بھی آپ کا راحتؔ کوئی مقام نہیںگناہ گاروں کی فہرست میں بھی نام نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  16. گھٹ کے رہ جاتی ہیں سینے میں صدائیں کتنیجم گئی ہیں میرے ہونٹوں پہ دعائیں کتنیOm Krishn Rahat (b. 1925)
  17. لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میںہم نے تو رکھی تھی ماتھے کی شکن گٹھری میںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  18. معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھاور اس کے بارے میں لکھا نہیں کتاب میں کچھOm Krishn Rahat (b. 1925)
  19. میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گاسر جھکا تو سر کو سجدوں کا نشہ ہو جائے گاOm Krishn Rahat (b. 1925)
  20. ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجودکعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجودOm Krishn Rahat (b. 1925)
  21. جو دل پر بوجھ ہے یا رب ذرا بھی کم نہیں ہوتازمانہ غم تو دیتا ہے شریک غم نہیں ہوتاChaman Bhatnagar (b. 1925)
  22. ترے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیںمگر سوال جو پیدا ہوا جواب کے بعدGhani Dehlvi (b. 1925)
  23. آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئیآپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئیQaisarul Jafri (1926–2005)
  24. اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گاچاند نکلا بھی تو چپ چاپ گزر جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
  25. اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہمکچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
  26. بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیںپہلے انہی گلیوں میں نغموں کی دکانیں تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  27. برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھےسورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھےQaisarul Jafri (1926–2005)
  28. بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگےشام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
  29. پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہودنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہوQaisarul Jafri (1926–2005)
  30. پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گریمیں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گریQaisarul Jafri (1926–2005)
  31. تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیاشب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیاQaisarul Jafri (1926–2005)
  32. تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہواپھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہواQaisarul Jafri (1926–2005)
  33. تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہممل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہمQaisarul Jafri (1926–2005)
  34. تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتاجاؤ اب یوں بھی تعلق نہیں توڑا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
  35. تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
  36. تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کراگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کرQaisarul Jafri (1926–2005)
  37. ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتیاب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتیQaisarul Jafri (1926–2005)
  38. جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھےمرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھےQaisarul Jafri (1926–2005)
  39. چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھامیں نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  40. خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہےاپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  41. خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئےوہ اتنی دور ہو گئے کہ فاصلے سمٹ گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
  42. دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھامیں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  43. دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھیدیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھیQaisarul Jafri (1926–2005)
  44. دل بے تب و تاب ہو گیا ہےآئینہ خراب ہو گیا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  45. دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جابام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جاQaisarul Jafri (1926–2005)
  46. دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہےہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  47. ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگایہ کنارا یہ سمندر یہ بھنور کیسا لگاQaisarul Jafri (1926–2005)
  48. ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیاتم نے پوچھا بھی نہیں رخت سفر باندھ لیاQaisarul Jafri (1926–2005)
  49. زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوںجو دل پر گزرا کرتی ہے میں پردا پردا کہتا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  50. زلف گھٹا بن کر رہ جائے آنکھ کنول ہو جائےشاید ان کو پل بھر سوچیں اور غزل ہو جائےQaisarul Jafri (1926–2005)