رکھئے زبان خار ہماری زباں کے ساتھ

Om Krishn Rahat (b. 1925)

رکھئے زبان خار ہماری زباں کے ساتھ

اس کا بیاں ملے گا ہمارے بیاں کے ساتھ

کیا جانیں کیوں ہماری یقیں سے نہ نبھ سکی

ہم آج تک نباہ رہے ہیں گماں کے ساتھ

ایک ایک بھید کھول کے چھوڑیں گے اس کا ہم

اب ضد سی ہو گئی ہے ہمیں آسماں کے ساتھ

لگتا ہے جیسے بات کوئی بیش و کم کی ہے

پھر آج شیخ الجھے ہیں پیر مغاں کے ساتھ

سیکھیں گے کس سے پار اترنے کا آپ فن

ہم نے تو باندھ رکھے ہیں پتھر زباں کے ساتھ

وہ تو سلوک کرتا رہا ہے برا بھلا

ہم بھی بگاڑ بیٹھے ہیں یارو جہاں کے ساتھ

بے لطف ایسی ہو گئی راحتؔ یہ زندگی

جیسے بگڑ گئی ہو کسی مہرباں کے ساتھ