تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہم

Qaisarul Jafri (1926–2005)

تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہم

مل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہم

وہ آنسوؤں کو اپنی ہنسی میں چھپا گیا

جس سے گلے ملے تھے اسی سے ملے نہ ہم

برسوں کے بعد آئے تو دنیا بدل گئی

اپنی گلی میں اپنی گلی سے ملے نہ ہم

دل کو وہ غم ملا ہے محبت کے نام پر

اس بے وفا کے بعد کسی سے ملے نہ ہم

کچھ اس طرح سے غم کا نشہ راس آ گیا

آئی کبھی خوشی تو خوشی سے ملے نہ ہم

قیصرؔ ہوئی نہ ہم سے دکھاوے کی دوستی

کاغذ کے پھول لے کے کسی سے ملے نہ ہم