Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتاآدمی اتنے قبیلوں میں نہ بانٹا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
  2. صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھاسورج افق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  3. عذاب سا ہے دل نامراد پر کب سےکھڑا ہوں میں روش گرد باد پر کب سےQaisarul Jafri (1926–2005)
  4. عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیںہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  5. کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گاجس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
  6. گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرےلوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرےQaisarul Jafri (1926–2005)
  7. مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہےوہ چراغ رہ گزر ہوں جو پس سحر جلا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  8. مرے ساتھ چلتے چلتے یہ کہاں ٹھہر گئے تمشب غم کٹے گی کیسے جو ابھی سے ڈر گئے تمQaisarul Jafri (1926–2005)
  9. مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرناجہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرناQaisarul Jafri (1926–2005)
  10. منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دوتم جو آ جاؤ تو شاید مجھے تنہا کر دوQaisarul Jafri (1926–2005)
  11. میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھادعاؤں کا بھی لہجہ بے زباں تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  12. نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئےترا ظرف دیکھ کے تشنہ لب تری انجمن سے چلے گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
  13. وہی شکست سفر کا نشاں ہے چہرے پربہت غبار پس کارواں ہے چہرے پرQaisarul Jafri (1926–2005)
  14. ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنےکیا کیا عشق رچایا برسوں لکھیں تو روداد بنےQaisarul Jafri (1926–2005)
  15. ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنےاڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنےQaisarul Jafri (1926–2005)
  16. ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاںلو دل کی راکھ چھوڑ کے ہم بھی چلے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
  17. ہوا بہت ہے متاع سفر سنبھال کے رکھدریدہ چادر جاں ہے مگر سنبھال کے رکھQaisarul Jafri (1926–2005)
  18. یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوںکوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  19. یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرےقاتل ہیں کہ چارہ گر ہیں میرےQaisarul Jafri (1926–2005)
  20. یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاںچراغ لے کے نکلنا بڑا ہنر ہے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
  21. آج تو دفعتاً سامنے آ گئیتیری رفتار باد صبا کی طرحQaisarul Jafri (1926–2005)
  22. آئیں گے اک دن پردیس والےاے گاؤں تھوڑے آنسو بچا لےQaisarul Jafri (1926–2005)
  23. بہار آئے گی پھوٹے گی شاخ سے کونپلشکست برگ خزاں سے یقین ہوتا ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  24. جہاں بھی خون ٹپکتا ہے سرفروشوں کابلند ہو کے وہ دھرتی گگن سے ملتی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  25. چتا کو جب ترا ٹھنڈا بدن سونپا گیا ہوگاشرارے کھل گئے ہوں گے دھواں لہرا گیا ہوگاQaisarul Jafri (1926–2005)
  26. خاک پر گر کے لہو کون و مکاں تک پہنچاروشنی بن کے مہ و کاہکشاں تک پہنچاQaisarul Jafri (1926–2005)
  27. خوش آمدید کہوں کیا یہ شب عذاب کی ہےیہاں ملی ہو جو منزل شکست خواب کیQaisarul Jafri (1926–2005)
  28. دامن دل پہ غبار رہ منزل ہے ابھیپائے افکار میں دیرینہ سلاسل ہے ابھیQaisarul Jafri (1926–2005)
  29. در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیںآؤ ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  30. زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہےخواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  31. میرے گھر میں جھونج بنائے گوریا کا جوڑاچونچ میں لے کر آئے جائے بھوسہ تھوڑا تھوڑاQaisarul Jafri (1926–2005)
  32. میرے ماضی کا کوئی زخم مرے پاس نہیںجس سے جو چیز ملی تھی اسے پھیر آیا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  33. میں اپنی زندگی سے ایک لمحے کا سوالی ہوںوہ لمحہ جو مرے نغموں کو چھو کر جاوداں کر دےQaisarul Jafri (1926–2005)
  34. میں جب بھی تیرے گھر کے پاس سے ہو کر گزرتا ہوںمجھے کھوئی ہوئی رعنائیاں آواز دیتی ہیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  35. نہ جانے زندگی کہاں ٹھہر گئییہ فصل انتظار بھی گزر گئیQaisarul Jafri (1926–2005)
  36. ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے یہ اجنبی لمحےکہیں ایسا نہ ہو پرچھائیاں دے کر گزر جائیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  37. یہ رات مشعل ارماں جلانے آئی ہےمگر نظر میں اندھیرا سا چھا رہا ہے کیوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  38. یہ سرخ جنگ جو برپا ہوئی ہے سرحد پریہ تیز آگ جو پھیلی ہے کوہساروں میںQaisarul Jafri (1926–2005)
  39. یہ کون لوگ سر میکدہ پہنچ آئےچھلک رہا ہے لہو ہی لہو ایاغوں سےQaisarul Jafri (1926–2005)
  40. تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھیقسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  41. راستا دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیںگونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سےQaisarul Jafri (1926–2005)
  42. گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میںمٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میںQaisarul Jafri (1926–2005)
  43. مسافر چلتے چلتے تھک گئے منزل نہیں ملتیقدم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو فاصلہ جیسےQaisarul Jafri (1926–2005)
  44. اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہوروز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہوKaleem Aajiz (1926–2015)
  45. امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیںعشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
  46. انہیں فریاد نازیبا لگے ہےستم کرتے بہت اچھا لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  47. بدلی سی اپنی آنکھوں میں چھائی ہوئی سی ہےبھولی ہوئی سی یاد پھر آئی ہوئی سی ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  48. بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو توبہار لائی ہے کیسی بہار دیکھو توKaleem Aajiz (1926–2015)
  49. بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہےبھلا آدمی تھا پہ نادان نکلاKaleem Aajiz (1926–2015)
  50. بیکسی ہے اور دل ناشاد ہےاب انہیں دونوں سے گھر آباد ہےKaleem Aajiz (1926–2015)