شعر کیا ہے غبار خاطر ہے
Om Krishn Rahat (b. 1925)شعر کیا ہے غبار خاطر ہے
طائر فکر کا کوئی پر ہے
بھول سکتے ہو خود کو پڑھ کر اسے
ایک منتر مجھے جو ازبر ہے
وادیٔ یاد میں تو ہر جانب
چاندنی رات کا سا منظر ہے
بات کر دیکھیے مرا لہجہ
میرے اشعار سے بھی بہتر ہے
دیر و کعبہ کے موڑ سے آگے
بائیں مڑ جائیں تو مرا گھر ہے
ڈالیے اس پہ بوجھ سجدوں کا
ہاں مگر سوچ کر کہ یہ سر ہے
شیخ صاحب نہ توڑیئے اس کو
یہ مرا دل نہیں یہ ساغر ہے
تم جسے پوج لو وہ ہے بھگوان
میں اٹھا لوں جسے وہ پتھر ہے
کس کی راحتؔ کی بات کرتے ہو
چھوڑیئے وہ تو ایک کافر ہے