خود ہی یہ درد سر قبول کیا

Om Krishn Rahat (b. 1925)

خود ہی یہ درد سر قبول کیا

ہر عذاب سفر قبول کیا

کون ہے جس کی کھوج میں ہم نے

گھومنا در بدر قبول کیا

نہ تو میں ہی کہوں نہ دل میرا

کس نے کس کا اثر قبول کیا

گھومنا کوچۂ ملامت میں

ہم نے کیا سوچ کر قبول کیا

ہم نے دو دن کی زندگی کے لیے

کتنا لمبا سفر قبول کیا

معنیٔ زیست ہی بدل دیں گے

ہم نے جینا اگر قبول کیا

دید کی چاہ میں ان آنکھوں نے

ہر فریب نظر قبول کیا

اس عبادت کے فرض کو راحتؔ

من نہیں تھا مگر قبول کیا