سمجھ کے سارے سہاروں کو رائیگاں ہم نے
Om Krishn Rahat (b. 1925)سمجھ کے سارے سہاروں کو رائیگاں ہم نے
اتار پھینکا ہے کشتی کا بادباں ہم نے
یہ کم ثبوت ہے محشر میں بے گناہی کا
کہ اپنے ہونٹوں پہ پھیری نہیں زباں ہم نے
جو بات چھیڑی ہے ہم نے ہمیں بھی علم نہیں
کہ ختم کرنا ہے اس بات کو کہاں ہم نے
دبے دبے ہیں ازل سے اسی لیے ہم لوگ
اٹھائے رکھا ہے کاندھوں پہ آسماں ہم نے
انڈیل لی ہے جہنم کی آگ سینے میں
رگوں میں بھر لیا دوزخ کا سب دھواں ہم نے
فقط گلوں کو نہیں نظم گلستاں سے گلہ
سنا ہے غور سے کانٹوں کا بھی بیاں ہم نے
ہم ایک دوجے سے ڈرتے ہیں اس لیے راحتؔ
رکھا ہے جنت و دوزخ کو درمیاں ہم نے