خوشی کا دوسرا پہلو ہے اور غم کیا ہے
Om Krishn Rahat (b. 1925)خوشی کا دوسرا پہلو ہے اور غم کیا ہے
نفس کی آمد و شد ہی تو ہے یہ دم کیا ہے
پڑھا تھا کاتب تقدیر کا لکھا ہم نے
تبھی چلا تھا پتہ وقعت قلم کیا ہے
کوئی بھی ٹھیک کبھی ٹھیک سے نہیں رکھا
مجھے پتہ ہی نہیں بیش کیا ہے کم کیا ہے
جھکے نہ یار کے در پر تو وہ جبیں کیسی
اٹھے نہ جانب منزل تو وہ قدم کیا ہے
کچھ ایسا فرق نہیں اعتقاد کی سوگند
مجھے خبر ہے یقیں کیا ہے اور بھرم کیا ہے
یہی کہ جھیلوں گا ہنس ہنس کے سب مصائب میں
مجھے پتہ ہے جبیں پہ مری رقم کیا ہے
میں مانگ مانگ کے راحتؔ دعائیں سمجھا ہوں
جہاں میں غیر اہم کیا ہے اور اہم کیا ہے