کون اب ان کی انجمن میں نہیں

Om Krishn Rahat (b. 1925)

کون اب ان کی انجمن میں نہیں

چپ ہیں جیسے زباں دہن میں نہیں

اپنے آبا میں تھی رواداری

اب وہ میرے ترے چلن میں نہیں

مال و زر کو کہاں چھپاؤ گے

جیب جب آپ کے کفن میں نہیں

دو گھڑی کا سکوں خرید سکے

ایسی طاقت تمہارے دھن میں نہیں

صبر کا پھل کہاں ملے گا تجھے

صبر کا پیڑ ہی چمن میں نہیں

بات جو حق کی برملا کہہ دے

وہ زباں ہی کسی دہن میں نہیں

جس کو بوئے وفا بھی کہتے تھے

ویسی خوشبو تو اب وطن میں نہیں

ہم ہنر کہہ سکیں جسے یارو

ہم میں ہے وہ ہمارے فن میں نہیں

اب تو اپنے تئیں بھی اے راحتؔ

کوئی رنجش ہمارے من میں نہیں