دکھ بھی سہے الم بھی سہے رنج بھی سہے

Om Krishn Rahat (b. 1925)

دکھ بھی سہے الم بھی سہے رنج بھی سہے

پھر بھی بشر خدا کو خدا مانتا رہے

سب منحصر بشر پہ ہے وہ کس طرح رہے

دکھ زندگی کے ہم نے تو ہنس کھیل کر سہے

در آ گئی ہے ذہن بشر میں یہ سوچ کیا

دریا سکھوں کا اس کے ہی گھر کی طرف بہے

آنگن کا اس کے پیڑ پھلوں سے لدا بھی ہو

سایہ بھی اس کا گھر ہی کی دیوار تک رہے

جھیلی ہو جس نے زندگی لے لے کے تیرا نام

تجھ کو اگر خدا نہ کہے وہ تو کیا کہے

راحتؔ ملیں گے اور بھی کچھ قدردان زیست

دیکھا تو کیجے خود سے بھی ہٹ کر گہے گہے