Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچاے دل نہ ستم اس کے کشائش میں کھینچQalaq Meerathi (1835–1880)
  2. کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانیہے کشتیٔ دریائے کرم طوفانیQalaq Meerathi (1835–1880)
  3. کہتا ہوں خدا لگتی عقیدے کے خلافہے تیرا خطاوار سزاوار معافQalaq Meerathi (1835–1880)
  4. مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطرکعبے نہیں جاتا تو حیا کی خاطرQalaq Meerathi (1835–1880)
  5. مسجد میں نہ جا واں نہیں ہونے کا نباہبے وجہ خصوصیت بھی ہے عصیاں کی گواہQalaq Meerathi (1835–1880)
  6. ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلاممردود ہوا کرتی ہے نظر اصنامQalaq Meerathi (1835–1880)
  7. ہر طرح سے ضائع ہے یہاں ہر اوقاتمافات تلافی ہے تلاف مافاتQalaq Meerathi (1835–1880)
  8. ہے دوستیٔ آل عبا رونے سےہے درجۂ والاۓ ولا رونے سےQalaq Meerathi (1835–1880)
  9. یا رب تجھے فکر پائے بندی کیا ہےنا چار کی و نیاز مندی کیا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  10. یاں ہم کو دیا کیا جو وہاں پر ہو نگاہطاعت سے کچھ امید نہ کچھ خوف گناہQalaq Meerathi (1835–1880)
  11. اس بزم سے میدان میں جانا ہوگاایواں سے بیابان میں جانا ہوگاQalaq Meerathi (1835–1880)
  12. اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیںیاراۓ نظر چشم تماشا میں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  13. اس عہد میں احتساب ایمانی کیاابرام معاصی کی پشیمانی کیاQalaq Meerathi (1835–1880)
  14. اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیںہر بزم میں کہتے ہیں کہ ہم ایسے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  15. افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذپیمانۂ مے پئے فراغت ہے لذیذQalaq Meerathi (1835–1880)
  16. افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔانداز ترا جی کو کڑھاتا ہے قلقؔQalaq Meerathi (1835–1880)
  17. اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیںاس طرح سے دنیا کو ترستے دیکھیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  18. اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکالدر پردہ نہیں وصل سے کم تیرا خیالQalaq Meerathi (1835–1880)
  19. اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کونجی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کونQalaq Meerathi (1835–1880)
  20. بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہےاور حال برا اصغر دلگیر کا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  21. بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلومبے دانہ و دام نکتہ دانی معلومQalaq Meerathi (1835–1880)
  22. تا ماہ صیام ہوئے باب امیداور واسطۂ جشن ہو یہ یوم سعیدQalaq Meerathi (1835–1880)
  23. جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھینیند آنکھ میں آرام نہ پائے گی کبھیQalaq Meerathi (1835–1880)
  24. جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شےآگے پیچھے دھریں ہیں سب کے لاشےQalaq Meerathi (1835–1880)
  25. خورشید پہ جس وقت زوال آتا ہےکیوں زیر زمیں چھپ کے چلا جاتا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  26. دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائےکعبہ بھی مرے طوف سے مجنوں ہو جائےQalaq Meerathi (1835–1880)
  27. دل دیر گزاری سے ہے آوند نمکہر زخم جگر رہتا ہے دل بند نمکQalaq Meerathi (1835–1880)
  28. دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹکیا طالع خفتہ کی گئی نیند اچٹQalaq Meerathi (1835–1880)
  29. دنیا کا تمام کارخانہ ہے عبثاس کشت عبث کا دانہ دانہ ہے عبثQalaq Meerathi (1835–1880)
  30. دنیا کا عجب رنگ سے دیکھا انگیزہر پائے حنابستہ سوار شبدیزQalaq Meerathi (1835–1880)
  31. دنیا میں قلقؔ کیا ہے سراسر ہے خاکدرویش ہے خاک اور تونگر ہے خاکQalaq Meerathi (1835–1880)
  32. دیں ہی بے ہوش ہے نہ دنیا بے ہوشہر شکل سے ہے صورت عقبیٰ بے ہوشQalaq Meerathi (1835–1880)
  33. زہاد کا غفلت سے ہے اوراد و سجودہے عید کی تصویر میں رنگ معبودQalaq Meerathi (1835–1880)
  34. شہہ کہتے تھے افسوس نہ کہنا مانےعباس کو وہ گھیر لیا اعدا نےQalaq Meerathi (1835–1880)
  35. صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسےابرار سے روپوش ہوئے ہم کیسےQalaq Meerathi (1835–1880)
  36. غیروں کو شب وصل بلانے سے غرضمشتاق زمانے کو دکھانے سے غرضQalaq Meerathi (1835–1880)
  37. فانی کے ہے نزدیک بقا کو بھی فناظلمت کو اور نور و صفا کو بھی فناQalaq Meerathi (1835–1880)
  38. کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کررسوائی ناموس کا ہے کس کو ڈرQalaq Meerathi (1835–1880)
  39. کس واسطے دی تھیں ہمیں یا رب آنکھیںواللہ کہ بے دید ہیں بے ڈھب آنکھیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  40. کل تک تھی خلد خانہ زاد دہلیہے خواب و خیال آج یاد دہلیQalaq Meerathi (1835–1880)
  41. کیا جانیے الفت کا ہے کس سے آغازجاں پر نہیں ہوتا کوئی اس کا جاں بازQalaq Meerathi (1835–1880)
  42. کیا ذکر وفا جفا کسی سے نہ بنیگر دوست ملا تو مدعی سے نہ بنیQalaq Meerathi (1835–1880)
  43. کیا لینے سوئے جاہ و حشم جائیں گےکیا دینے سر کوئے کرم جائیں گےQalaq Meerathi (1835–1880)
  44. گاہے تو کرم ہم پہ بھی فرمائیں آپآ جائیں یہاں بھی جو کہیں جائیں آپQalaq Meerathi (1835–1880)
  45. گردن کو جھکا دیتا ہے ادنیٰ احسانکس طرح سے دکھلائیں گے منہ نا احسانQalaq Meerathi (1835–1880)
  46. لازم ہے کہ فکر رخ دلبر چھوڑوںواجب ہے یہی اب کہ مقرر چھوڑوںQalaq Meerathi (1835–1880)
  47. لو جائیے بس خدا ہمارا حافظبے یار کا ہے وہی پیارا حافظQalaq Meerathi (1835–1880)
  48. محراب و مصلیٰ اور زاہد بھی وہیسجدہ مسجود اور ساجد بھی وہیQalaq Meerathi (1835–1880)
  49. مرمر کے پئے رنج و بلا جیتے ہیںناراض ہیں راضی بہ رضا جیتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  50. منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تکاس سلسلۂ‌ پا کو نہ توڑوں کب تکQalaq Meerathi (1835–1880)