Poetry
- ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچاے دل نہ ستم اس کے کشائش میں کھینچQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانیہے کشتیٔ دریائے کرم طوفانیQalaq Meerathi (1835–1880)
- کہتا ہوں خدا لگتی عقیدے کے خلافہے تیرا خطاوار سزاوار معافQalaq Meerathi (1835–1880)
- مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطرکعبے نہیں جاتا تو حیا کی خاطرQalaq Meerathi (1835–1880)
- مسجد میں نہ جا واں نہیں ہونے کا نباہبے وجہ خصوصیت بھی ہے عصیاں کی گواہQalaq Meerathi (1835–1880)
- ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلاممردود ہوا کرتی ہے نظر اصنامQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر طرح سے ضائع ہے یہاں ہر اوقاتمافات تلافی ہے تلاف مافاتQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہے دوستیٔ آل عبا رونے سےہے درجۂ والاۓ ولا رونے سےQalaq Meerathi (1835–1880)
- یا رب تجھے فکر پائے بندی کیا ہےنا چار کی و نیاز مندی کیا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- یاں ہم کو دیا کیا جو وہاں پر ہو نگاہطاعت سے کچھ امید نہ کچھ خوف گناہQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس بزم سے میدان میں جانا ہوگاایواں سے بیابان میں جانا ہوگاQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیںیاراۓ نظر چشم تماشا میں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس عہد میں احتساب ایمانی کیاابرام معاصی کی پشیمانی کیاQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیںہر بزم میں کہتے ہیں کہ ہم ایسے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذپیمانۂ مے پئے فراغت ہے لذیذQalaq Meerathi (1835–1880)
- افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔانداز ترا جی کو کڑھاتا ہے قلقؔQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیںاس طرح سے دنیا کو ترستے دیکھیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکالدر پردہ نہیں وصل سے کم تیرا خیالQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کونجی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کونQalaq Meerathi (1835–1880)
- بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہےاور حال برا اصغر دلگیر کا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلومبے دانہ و دام نکتہ دانی معلومQalaq Meerathi (1835–1880)
- تا ماہ صیام ہوئے باب امیداور واسطۂ جشن ہو یہ یوم سعیدQalaq Meerathi (1835–1880)
- جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھینیند آنکھ میں آرام نہ پائے گی کبھیQalaq Meerathi (1835–1880)
- جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شےآگے پیچھے دھریں ہیں سب کے لاشےQalaq Meerathi (1835–1880)
- خورشید پہ جس وقت زوال آتا ہےکیوں زیر زمیں چھپ کے چلا جاتا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائےکعبہ بھی مرے طوف سے مجنوں ہو جائےQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل دیر گزاری سے ہے آوند نمکہر زخم جگر رہتا ہے دل بند نمکQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹکیا طالع خفتہ کی گئی نیند اچٹQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا کا تمام کارخانہ ہے عبثاس کشت عبث کا دانہ دانہ ہے عبثQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا کا عجب رنگ سے دیکھا انگیزہر پائے حنابستہ سوار شبدیزQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا میں قلقؔ کیا ہے سراسر ہے خاکدرویش ہے خاک اور تونگر ہے خاکQalaq Meerathi (1835–1880)
- دیں ہی بے ہوش ہے نہ دنیا بے ہوشہر شکل سے ہے صورت عقبیٰ بے ہوشQalaq Meerathi (1835–1880)
- زہاد کا غفلت سے ہے اوراد و سجودہے عید کی تصویر میں رنگ معبودQalaq Meerathi (1835–1880)
- شہہ کہتے تھے افسوس نہ کہنا مانےعباس کو وہ گھیر لیا اعدا نےQalaq Meerathi (1835–1880)
- صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسےابرار سے روپوش ہوئے ہم کیسےQalaq Meerathi (1835–1880)
- غیروں کو شب وصل بلانے سے غرضمشتاق زمانے کو دکھانے سے غرضQalaq Meerathi (1835–1880)
- فانی کے ہے نزدیک بقا کو بھی فناظلمت کو اور نور و صفا کو بھی فناQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کررسوائی ناموس کا ہے کس کو ڈرQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس واسطے دی تھیں ہمیں یا رب آنکھیںواللہ کہ بے دید ہیں بے ڈھب آنکھیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- کل تک تھی خلد خانہ زاد دہلیہے خواب و خیال آج یاد دہلیQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا جانیے الفت کا ہے کس سے آغازجاں پر نہیں ہوتا کوئی اس کا جاں بازQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا ذکر وفا جفا کسی سے نہ بنیگر دوست ملا تو مدعی سے نہ بنیQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا لینے سوئے جاہ و حشم جائیں گےکیا دینے سر کوئے کرم جائیں گےQalaq Meerathi (1835–1880)
- گاہے تو کرم ہم پہ بھی فرمائیں آپآ جائیں یہاں بھی جو کہیں جائیں آپQalaq Meerathi (1835–1880)
- گردن کو جھکا دیتا ہے ادنیٰ احسانکس طرح سے دکھلائیں گے منہ نا احسانQalaq Meerathi (1835–1880)
- لازم ہے کہ فکر رخ دلبر چھوڑوںواجب ہے یہی اب کہ مقرر چھوڑوںQalaq Meerathi (1835–1880)
- لو جائیے بس خدا ہمارا حافظبے یار کا ہے وہی پیارا حافظQalaq Meerathi (1835–1880)
- محراب و مصلیٰ اور زاہد بھی وہیسجدہ مسجود اور ساجد بھی وہیQalaq Meerathi (1835–1880)
- مرمر کے پئے رنج و بلا جیتے ہیںناراض ہیں راضی بہ رضا جیتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تکاس سلسلۂ پا کو نہ توڑوں کب تکQalaq Meerathi (1835–1880)