اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکال
Qalaq Meerathi (1835–1880)اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکال
در پردہ نہیں وصل سے کم تیرا خیال
آئینۂ دیدہ کے ادھر پھرتے ہو
اس طرف نظر کے ہے طلسمات وصال
اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکال
در پردہ نہیں وصل سے کم تیرا خیال
آئینۂ دیدہ کے ادھر پھرتے ہو
اس طرف نظر کے ہے طلسمات وصال