دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے

Qalaq Meerathi (1835–1880)

دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے

کعبہ بھی مرے طوف سے مجنوں ہو جائے

بوسے میں اگر دوں حجر اسود پر

لب ہائے مے آلود سے گل گوں ہو جائے