جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھی

Qalaq Meerathi (1835–1880)

جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھی

نیند آنکھ میں آرام نہ پائے گی کبھی

غیر آئے گا کیوں خانۂ دل میں تو آ

اے پردہ نشیں یاس نہ آئے گی کبھی