دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹ
Qalaq Meerathi (1835–1880)دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹ
کیا طالع خفتہ کی گئی نیند اچٹ
وہ پردہ نشیں گو کہ نہ آئے لیکن
اے چرخ ذرا سامنے سے تو تو ہٹ
دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹ
کیا طالع خفتہ کی گئی نیند اچٹ
وہ پردہ نشیں گو کہ نہ آئے لیکن
اے چرخ ذرا سامنے سے تو تو ہٹ