صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسے

Qalaq Meerathi (1835–1880)

صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسے

ابرار سے روپوش ہوئے ہم کیسے

کچھ یاں کا خیال ہے نہ واں کا کھٹکا

ہوش آتے ہی بے ہوش ہوئے ہم کیسے