اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کون

Qalaq Meerathi (1835–1880)

اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کون

جی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کون

افسانۂ وصل کس سے پوچھوں شب ہجر

آپ ہی میں کہوں آپ سنوں سوئے کون