جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شے

Qalaq Meerathi (1835–1880)

جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شے

آگے پیچھے دھریں ہیں سب کے لاشے

دنیا ہے قلقؔ کچھ تو یہی کچھ ہے بس

ہر چیز ہے نا چیز تو ہر شے لا شے