تا ماہ صیام ہوئے باب امید
Qalaq Meerathi (1835–1880)تا ماہ صیام ہوئے باب امید
اور واسطۂ جشن ہو یہ یوم سعید
ہر روز سے ہو تیرے شب قدر عیاں
ہر شب سے نمایاں ہو تری روز عید
تا ماہ صیام ہوئے باب امید
اور واسطۂ جشن ہو یہ یوم سعید
ہر روز سے ہو تیرے شب قدر عیاں
ہر شب سے نمایاں ہو تری روز عید