ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچ

Qalaq Meerathi (1835–1880)

ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچ

اے دل نہ ستم اس کے کشائش میں کھینچ

اچھا ہے خیال دہن و فکر کمر

دنیا ہیچ است و کار دنیا ہمہ ہیچ