ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلام

Qalaq Meerathi (1835–1880)

ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلام

مردود ہوا کرتی ہے نظر اصنام

محراب ہے مسجد میں مرا افسانہ

توبہ ہے ہوا ہوں میں بھی کیا ہی بدنام