Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- منزل ہے تو اک رستۂ دشوار میں گم ہےرستہ ہے تو پیچ و خم دل دار میں گم ہےNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)
- دیکھو تو سہی زیست کے امکان بھی ہوں گےشاید کہ اسی بھیڑ میں انسان بھی ہوں گےParvez akhtar (b. 1966)
- وہ خواب طلب گار تماشا بھی نہیں ہےکہتے ہیں کسی نے اسے دیکھا بھی نہیں ہےKabir Ajmal (1967–2020)
- وہ موج ہوا جو ابھی بہنے کی نہیں ہےہم جانتے ہیں آپ سے کہنے کی نہیں ہےKabir Ajmal (1967–2020)
- پڑھتا ہے بڑے شوق سے وہ میری کتابیںجس بات سے ڈرتا ہوں وہی بات نہ پڑھ لےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- چہرے پہ کسی کرب کی تنویر نہیں کیمحسوس ہی کرتے رہے تفسیر نہیں کیTabassum Azmi (b. 1968)
- ویران سا اب ہوں جو میں ایسا تو نہیں تھاہوتا تھا سمندر کبھی صحرا تو نہیں تھاFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہےکاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہےEhtisham Hasan (b. 1969)
- کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سےیہ پہلا تعارف ہے مرا تازہ ہوا سےEhtisham Hasan (b. 1969)
- ہو جائیں کسی کے جو کبھی یار منافقسمجھو کہ ہوئے ہیں در و دیوار منافقDanish Aziz (b. 1970)
- آنکھوں سے مناظر کا تسلسل نہیں ٹوٹامیں لٹ گیا پر تیرا تغافل نہیں ٹوٹاNadeem Mahir (b. 1970)
- زخموں کو کریدا ہے تو ماضی نکل آیاسوکھے ہوئے دریاؤں سے پانی نکل آیاNadeem Mahir (b. 1970)
- جو لوگ گزرتے ہیں مسلسل رہ دل سےدن عید کا ان کو ہو مبارک تہ دل سےObaid Azam Azmi (b. 1970)
- ہر بار ہوا ہے جو وہی تو نہیں ہوگاڈر جس کا ستاتا ہے ابھی تو نہیں ہوگاAalok Shrivastav (b. 1971)
- آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارکمت آئے بہ ہر حال اسے عید مبارکIdris Babar (b. 1973)
- مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میںکتنے ہی ستاروں کی جگہ ہے مرے دل میںIdris Babar (b. 1973)
- انداز ستم ان کا نہایت ہی الگ ہےگزری ہے جو دل پر وہ قیامت ہی الگ ہےIftikhar Raghib (b. 1973)
- انکار ہی کر دیجیے اقرار نہیں توالجھن ہی میں مر جائے گا بیمار نہیں توIftikhar Raghib (b. 1973)
- چھوڑا نہ مجھے دل نے مری جان کہیں کادل ہے کہ نہیں مانتا نادان کہیں کاIftikhar Raghib (b. 1973)
- اقرار کا مطلب ہو کہ انکار کے معنیکوئی تو ہو سمجھے مری گفتار کے معنیTahir Adeem (b. 1973)
- جز قربت جاں پردۂ جاں کوئی نہیں تھاوہ تھا تو وہاں اور جہاں کوئی نہیں تھاIftikhar Shafi (b. 1973)
- سب طرح کے حالات کو امکان میں رکھاہر لمحہ اسے سوچ میں وجدان میں رکھاIftikhar Shafi (b. 1973)
- خوش ہو کوئی دنیا میں یہ آسان نہیں ہےانساں کبھی انساں بنے امکان نہیں ہےNabil (b. 1974)
- اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتےہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتےIftikhar Haidar (b. 1975)
- اس بات کو ویسے تو چھپایا نہ گیا ہےسب کو یہ مگر راز بتایا نہ گیا ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- بازار ترے شہر کے بدنام بہت ہیںچھوٹی سی خوشی کے بھی یہاں دام بہت ہیںChand Akbarabadi (b. 1975)
- تو کاش ملے مجھ کو اکیلی تو بتاؤںسلجھے مری قسمت کی پہیلی تو بتاؤںChand Akbarabadi (b. 1975)
- اے کاش ہو برسات ذرا اور ذرا اوربڑھ جائے ملاقات ذرا اور ذرا اورEhya Bhojpuri (b. 1977)
- ہاتھوں کی لکیروں کا لکھا کاٹ رہے ہیںہم اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیںEhya Bhojpuri (b. 1977)
- اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننامجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بنناAamir Suhail (b. 1977)
- اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہےمٹھی میں جہاں پاؤں میں زنجیر عجب ہےAamir Suhail (b. 1977)
- ہوتا ہے مرے حال کا چرچا مرے آگےبنتا ہے مرا روز تماشا مرے آگےChand Kakralvi (b. 1979)
- تنقید کرو خوب مگر دیکھتے رہنابیکار نہ جائے گا ہنر دیکھتے رہناSaabir Usmani (b. 1979)
- معلوم نہیں نیند کسے کہتے ہیں لیکنکرتا تو ہوں اک کام میں سونے کی طرح کاNadeem ahmad (b. 1979)
- اک بت ہے جسے میری نظر ڈھونڈھ رہی ہےمشکل ہے ملاقات مگر ڈھونڈھ رہی ہےJagjit Kafir (b. 1979)
- ساکت ہو مگر سب کو روانی نظر آئےاس ریت کے صدقے کہ جو پانی نظر آئےDaniyal Tareer (1980–2015)
- اس دل کو اگر تیرا سہارا نہیں ملتاقسمت کو کوئی چاند ستارہ نہیں ملتاM. Usman Shakir (b. 1980)
- کچھ لوگ جو حاصل ہوں گنوائے نہیں جاتےاس طرح خزانے تو لٹائے نہیں جاتےM. Usman Shakir (b. 1980)
- آنکھوں میں حیا رکھ کے بھی بے باک بہت تھےتھے تیرے گنہ گار مگر پاک بہت تھےGhausiya Khan Sabeen (b. 1980)
- سانسوں کی روانی میں خلل آنے لگا ہےٹھہرو کہ بچھڑ جانے کا پل آنے لگا ہےBabar Ali Asad (b. 1980)
- ہم وصل کی دن رات دعا مانگ رہے ہیںبیمار محبت ہیں دوا مانگ رہے ہیںNaeem Faraz (b. 1980)
- اک لمحہ جو فرقت کے سوا اور بھی کچھ تھااک غم جو قیامت کے سوا اور بھی کچھ تھاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےدنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےAalam Nizami (b. 1984)
- دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتافنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتاAalam Nizami (b. 1984)
- سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتیمحسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتیAalam Nizami (b. 1984)
- بارود کے ذرے جو فضاؤں میں رہیں گےپھر کیسے پرندے یہ ہواؤں میں رہیں گےYasir Raza Asif (b. 1984)
- گھر کے بڑے بوڑھوں کو یہی کہتے سنا ہےجھک جھک کے جو ملتا ہے وہی قد میں بڑا ہےYasir Raza Asif (b. 1984)
- مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کےنکلے ہیں مرے زخم طلب گار نمک کےVarun Anand (b. 1985)
- جو چہرے چمکتے تھے وہ مرجھائے ہوئے ہیںلگتا ہے بہاروں کے یہ ٹھکرائے ہوئے ہیںYasmeen Moomal (b. 1985)
- دشمن مرے پیچھے ہے تو دریا مرے آگےاب کوئی بچا ہی نہیں رستہ مرے آگےTabish Raihan (b. 1986)