خوش ہو کوئی دنیا میں یہ آسان نہیں ہے

Nabil (b. 1974)

خوش ہو کوئی دنیا میں یہ آسان نہیں ہے

انساں کبھی انساں بنے امکان نہیں ہے

آنکھوں سے مری کہتا ہے آئینہ یہ ہر بار

یہ جسم مری روح کی پہچان نہیں ہے

اب خون جگر بھی تو بہا تھوڑا سا مجنوں

پہچان فقط چاک گریبان نہیں ہے

شکوہ تو نہیں کرتا صنم کوئی ستم کا

یہ بات الگ دل مرا نادان نہیں ہے