جو چہرے چمکتے تھے وہ مرجھائے ہوئے ہیں

Yasmeen Moomal (b. 1985)

جو چہرے چمکتے تھے وہ مرجھائے ہوئے ہیں

لگتا ہے بہاروں کے یہ ٹھکرائے ہوئے ہیں

جب جھوٹوں کے چہرے سے ہٹایا گیا پردا

سچ سامنے آیا تو وہ جھنجھلائے ہوئے ہیں

مجھ پر جو کیا کرتے تھے الزام تراشی

اخلاص سے اب میرے وہ شرمائے ہوئے ہیں

انسان کے بس میں نہیں سیدھا انہیں کرنا

وہ لوگ جو پیدائشی بل کھائے ہوئے ہیں

یہ بات الگ ہے مرے گھر تک نہیں آئے

خوابوں میں کئی بار تو وہ آئے ہوئے ہیں