ہوتا ہے مرے حال کا چرچا مرے آگے
Chand Kakralvi (b. 1979)ہوتا ہے مرے حال کا چرچا مرے آگے
بنتا ہے مرا روز تماشا مرے آگے
افسوس مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں تھے
دم توڑ رہا تھا کوئی پیاسا مرے آگے
اتنا بھی اجالے نہ کریں میرا تعاقب
آ جائے مرے جسم کا سایہ مرے آگے
یہ دور گذشتہ میں تھا رفتار کا عالم
منزل مرے پیچھے رہی رستہ مرے آگے
اس وقت میں خود لاش ہوں خود نوحہ سرا ہوں
رکھا ہے مرا اپنا جنازہ مرے آگے
ناکامئ قسمت کی شروعات ہوئی ہے
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے