Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. اجڑ کے گھر سے سر راہ آ کے بیٹھے ہیںہم اپنی ضد میں سبھی کچھ گنوا کے بیٹھے ہیںVaris Kirmani (1927–2012)
  2. جمال نسترنی رنگ و بوئے یاسمنیگلوں نے سیکھ لیا تم سے ذوق پیرہنیVaris Kirmani (1927–2012)
  3. تمام رات چھتوں پر برس گیا پانیسویرا ہوتے ہی بستی میں بس گیا پانیB S Jain Jauhar (b. 1927)
  4. خمار شب میں اسے میں سلام کر بیٹھاجو کام کرنا تھا مجھ کو وہ کام کر بیٹھاMunir Niazi (1928–2006)
  5. شب وصال میں دوری کا خواب کیوں آیاکمال فتح میں یہ ڈر کا باب کیوں آیاMunir Niazi (1928–2006)
  6. کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتےسوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتےMunir Niazi (1928–2006)
  7. لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میںخیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
  8. بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہوہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہوHabib Jalib (1928–1993)
  9. بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارےنئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارےHabib Jalib (1928–1993)
  10. درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالےیہ کس نگر کو روانہ ہوئے ہیں گھر والےHabib Jalib (1928–1993)
  11. نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میںچراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میںHabib Jalib (1928–1993)
  12. وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگامگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگاHabib Jalib (1928–1993)
  13. ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہمکسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہمHabib Jalib (1928–1993)
  14. خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہےاسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہےHabib Jalib (1928–1993)
  15. ہجوم یاس میں جوت آس کی تری آوازہم اہل درد کی ہے زندگی تری آوازHabib Jalib (1928–1993)
  16. یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطلیہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحلHabib Jalib (1928–1993)
  17. یہ دور دور مرادوں کے ریتیلے ٹیلےسرک سرک کے جو دامن بدلتے رہتے ہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
  18. بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں گم شدہ کی طرحسکوت سنگ نے ٹھکرا دیا صدا کی طرحKailash Mahir (b. 1928)
  19. لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرےبھری بہار کے یہ دن بہت گراں گزرےKailash Mahir (b. 1928)
  20. ابھی فضاؤں میں طاری ہے مضطرب سا سکوںابھی خلاؤں میں آواز گونج جاتی ہےKailash Mahir (b. 1928)
  21. علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھاجو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  22. شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلےدکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلےA G Josh (1928–2007)
  23. نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھیتری تلاش میں غیروں کے گھر گئے ہم بھیA G Josh (1928–2007)
  24. چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئےہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئےIbn-e-Safi (1928–1980)
  25. تمہیں خبر بھی ہے یہ تم نے کس سے کیا مانگابھنور میں ڈوبنے والوں سے آسرا مانگاGhani Ejaz (1929–2010)
  26. مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوںہر ایک موج کی آغوش میں مچلتا ہوںDaud Nishat (1929–1992)
  27. زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتےوہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتےMustafa Zaidi (1930–1970)
  28. کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئےتجھے جو پا نہ سکے زیست کو سنوار آئےMustafa Zaidi (1930–1970)
  29. کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجےکبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجےMustafa Zaidi (1930–1970)
  30. ماہ و سالMustafa Zaidi (1930–1970)
  31. سفر آخر شبMustafa Zaidi (1930–1970)
  32. انتہاMustafa Zaidi (1930–1970)
  33. روح کی موتMustafa Zaidi (1930–1970)
  34. فساد ذاتMustafa Zaidi (1930–1970)
  35. پہلا پتھرMustafa Zaidi (1930–1970)
  36. تری ہنسیMustafa Zaidi (1930–1970)
  37. نیا آذرMustafa Zaidi (1930–1970)
  38. مسافر (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
  39. کراہتے ہوئے دلMustafa Zaidi (1930–1970)
  40. ترے نگاہ کرم جب بکھر گئی ہوگیکسی غریب کی دنیا سنور گئی ہوگیDaur Afridi (1930–1992)
  41. خیال و خواب و عقائد کی سحر کاری تکگھٹے گھٹے سے شب و روز تھے بجھی سی فضاDaur Afridi (1930–1992)
  42. سخن فریب کوئی مہرباں کی طرحدیار حسن ہے دنیا کی داستاں کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
  43. دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھےیہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  44. کہیں خلا میں کوئی روح چیختی ہوگیمرا خیال ہے اب شام ڈھل چکی ہوگیBalraj Hairat (1930–1995)
  45. کھڑے ہیں سامنے احباب اجگروں کی طرحبلا رہا ہے بیاباں کھلے دروں کی طرحBalraj Hairat (1930–1995)
  46. دلوں میں مدحت رحمان ہم بھی رکھتے ہیںوقار عظمت قرآن ہم بھی رکھتے ہیںYas Chandpuri (b. 1930)
  47. مری نگاہ میں سود و زیاں نہیں کچھ بھیوہاں ملے گا اگرچہ یہاں نہیں کچھ بھیYas Chandpuri (b. 1930)
  48. طرح طرح کے سوالات کرتے رہتے ہیںاب اپنے آپ سے ہم بات کرتے رہتے ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
  49. نظر میں سب کی مری بے خودی کا عالم ہےکسے خبر کہ بڑی بے بسی کا عالم ہےRaees Rampuri (b. 1930)
  50. اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہےمگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہےAhmad Faraz (1931–2008)