Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- اجڑ کے گھر سے سر راہ آ کے بیٹھے ہیںہم اپنی ضد میں سبھی کچھ گنوا کے بیٹھے ہیںVaris Kirmani (1927–2012)
- جمال نسترنی رنگ و بوئے یاسمنیگلوں نے سیکھ لیا تم سے ذوق پیرہنیVaris Kirmani (1927–2012)
- تمام رات چھتوں پر برس گیا پانیسویرا ہوتے ہی بستی میں بس گیا پانیB S Jain Jauhar (b. 1927)
- خمار شب میں اسے میں سلام کر بیٹھاجو کام کرنا تھا مجھ کو وہ کام کر بیٹھاMunir Niazi (1928–2006)
- شب وصال میں دوری کا خواب کیوں آیاکمال فتح میں یہ ڈر کا باب کیوں آیاMunir Niazi (1928–2006)
- کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتےسوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتےMunir Niazi (1928–2006)
- لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میںخیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
- بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہوہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہوHabib Jalib (1928–1993)
- بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارےنئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارےHabib Jalib (1928–1993)
- درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالےیہ کس نگر کو روانہ ہوئے ہیں گھر والےHabib Jalib (1928–1993)
- نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میںچراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میںHabib Jalib (1928–1993)
- وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگامگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگاHabib Jalib (1928–1993)
- ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہمکسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہمHabib Jalib (1928–1993)
- خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہےاسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- ہجوم یاس میں جوت آس کی تری آوازہم اہل درد کی ہے زندگی تری آوازHabib Jalib (1928–1993)
- یہ ضابطہ ہے کہ باطل کو مت کہوں باطلیہ ضابطہ ہے کہ گرداب کو کہوں ساحلHabib Jalib (1928–1993)
- یہ دور دور مرادوں کے ریتیلے ٹیلےسرک سرک کے جو دامن بدلتے رہتے ہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
- بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں گم شدہ کی طرحسکوت سنگ نے ٹھکرا دیا صدا کی طرحKailash Mahir (b. 1928)
- لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرےبھری بہار کے یہ دن بہت گراں گزرےKailash Mahir (b. 1928)
- ابھی فضاؤں میں طاری ہے مضطرب سا سکوںابھی خلاؤں میں آواز گونج جاتی ہےKailash Mahir (b. 1928)
- علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھاجو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلےدکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلےA G Josh (1928–2007)
- نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھیتری تلاش میں غیروں کے گھر گئے ہم بھیA G Josh (1928–2007)
- چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئےہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئےIbn-e-Safi (1928–1980)
- تمہیں خبر بھی ہے یہ تم نے کس سے کیا مانگابھنور میں ڈوبنے والوں سے آسرا مانگاGhani Ejaz (1929–2010)
- مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوںہر ایک موج کی آغوش میں مچلتا ہوںDaud Nishat (1929–1992)
- زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتےوہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتےMustafa Zaidi (1930–1970)
- کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئےتجھے جو پا نہ سکے زیست کو سنوار آئےMustafa Zaidi (1930–1970)
- کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجےکبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجےMustafa Zaidi (1930–1970)
- ماہ و سالMustafa Zaidi (1930–1970)
- سفر آخر شبMustafa Zaidi (1930–1970)
- انتہاMustafa Zaidi (1930–1970)
- روح کی موتMustafa Zaidi (1930–1970)
- فساد ذاتMustafa Zaidi (1930–1970)
- پہلا پتھرMustafa Zaidi (1930–1970)
- تری ہنسیMustafa Zaidi (1930–1970)
- نیا آذرMustafa Zaidi (1930–1970)
- مسافر (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
- کراہتے ہوئے دلMustafa Zaidi (1930–1970)
- ترے نگاہ کرم جب بکھر گئی ہوگیکسی غریب کی دنیا سنور گئی ہوگیDaur Afridi (1930–1992)
- خیال و خواب و عقائد کی سحر کاری تکگھٹے گھٹے سے شب و روز تھے بجھی سی فضاDaur Afridi (1930–1992)
- سخن فریب کوئی مہرباں کی طرحدیار حسن ہے دنیا کی داستاں کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
- دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھےیہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- کہیں خلا میں کوئی روح چیختی ہوگیمرا خیال ہے اب شام ڈھل چکی ہوگیBalraj Hairat (1930–1995)
- کھڑے ہیں سامنے احباب اجگروں کی طرحبلا رہا ہے بیاباں کھلے دروں کی طرحBalraj Hairat (1930–1995)
- دلوں میں مدحت رحمان ہم بھی رکھتے ہیںوقار عظمت قرآن ہم بھی رکھتے ہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- مری نگاہ میں سود و زیاں نہیں کچھ بھیوہاں ملے گا اگرچہ یہاں نہیں کچھ بھیYas Chandpuri (b. 1930)
- طرح طرح کے سوالات کرتے رہتے ہیںاب اپنے آپ سے ہم بات کرتے رہتے ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- نظر میں سب کی مری بے خودی کا عالم ہےکسے خبر کہ بڑی بے بسی کا عالم ہےRaees Rampuri (b. 1930)
- اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہےمگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہےAhmad Faraz (1931–2008)