Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- وہ شخص بول رہا تھا خدا کے لہجے میںمیں سن رہا تھا مگر میں کلیم وقت نہ تھاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- یہ اور بات کہ تو دو قدم پہ بھول گیاہمیں تو حشر تلک تیرا انتظار رہاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیاعجیب سایہ نحوست کا گھر پہ بیٹھ گیاYasmeen Sahar (b. 1968)
- قطار جگنوؤں کی روشنی لٹاتی رہیمیں رنگ گوندھ کے تتلی کے پر بناتی رہیYasmeen Sahar (b. 1968)
- نئی جفا کا مجھے اب تو کوئی باب نہ دےمیں جس کو پڑھ کے بہک جاؤں وہ کتاب نہ دےParvez Ahmad Parvez (b. 1968)
- حسیں جبیں پہ مرے ہونٹ تھرتھرانے لگےپھر اس کے بعد مرے ہوش کب ٹھکانے لگےDanish Aziz (b. 1970)
- کچھ اس طرح سے زمانے پہ چھانا چاہتا ہےوہ آفتاب پہ پہرے بٹھانا چاہتا ہےNadeem Farrukh (b. 1970)
- اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلےطواف کرتا ہوا موسم بہار چلےAalok Shrivastav (b. 1971)
- کہیں پہ رکتے ہوئے اور کہیں گزرتے ہوئےخجل تو خوب ہوئے ناظریں گزرتے ہوئےNaeem Gilani (b. 1972)
- مثال موجۂ خوشبو بکھر گئے مرے دنگزر گئیں مری راتیں گزر گئے مرے دنNaeem Gilani (b. 1972)
- نشیب ہجر میں دن اختتام کرتے ہوئےمیں خود میں ڈوبتا جاتا تھا شام کرتے ہوئےNaeem Gilani (b. 1972)
- تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئےفقیر حجرۂ ہفت آسماں اٹھائے ہوئےIdris Babar (b. 1973)
- تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اورہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھاIdris Babar (b. 1973)
- اسے چھوا ہی نہیں جو مری کتاب میں تھاوہی پڑھایا گیا مجھ کو جو نصاب میں تھاVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ہماری روح کو چھوکر گزر گیا ہے ابھیوہ ایک لمحہ نہ جانے کدھر گیا ہے ابھیDakhlan Bhopali (b. 1973)
- مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ ملیہر ایک چیز ملی ایک زندگی نہ ملیChandni Pandey (b. 1974)
- کبھی وہ موت سے ڈرتا ہے زندگی سے کبھیوہ کام جھوٹ سے لیتا ہے بندگی سے کبھیNabil (b. 1974)
- ہنر کہاں ہے کہ میں اور کوئی خیال لکھوںسوائے درد کے کیا ہے جسے کمال لکھوںNabil (b. 1974)
- بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہےتونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- عجیب درد سا اس لمحۂ وصال میں تھاکہ زخم سے بھی بڑا کرب اندمال میں تھاIftikhar Haidar (b. 1975)
- انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیںسو ان غلاموں میں میرا غلام کوئی نہیںJabbar Wasif (b. 1975)
- عجیب خواب تھا ہم باغ میں کھڑے ہوئے تھےہمارے سامنے پھولوں کے سر پڑے ہوئے تھےJabbar Wasif (b. 1975)
- میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہوخدا کے نام کی کعبے میں بھی اذان نہ ہوJabbar Wasif (b. 1975)
- جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھےکہیں پہ لفظ کہیں پر خیال چیخ اٹھےChand Akbarabadi (b. 1975)
- کبھی گناہوں کی مطلق کفن اتار کے آتو اجلی روح سے میلا بدن اتار کے آChand Akbarabadi (b. 1975)
- نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یاربڑی طویل ہے یہ داستان چھوڑ نہ یارChand Akbarabadi (b. 1975)
- ترے قریب رہوں یا کہ میں سفر میں رہوںیہ آرزو ہے ترے حلقۂ اثر میں رہوںZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- تمام عمر جلے اور روشنی نہیں کییہ زندگی ہے تو پھر ہم نے زندگی نہیں کیNadeem Bhabha (b. 1977)
- شدید گریہ کا مطلب بتا رہا تھا ہمیںوہ رو رہا تھا کہ رونا سکھا رہا تھا ہمیںNadeem Bhabha (b. 1977)
- ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریبکہ اس کو چاہئے گہرائیاں عجیب و غریبEhya Bhojpuri (b. 1977)
- کھٹک رہا ہوں مسلسل کسی کی آنکھوں میںاسی لئے تو نشانے پہ بار بار ہوں میںEhya Bhojpuri (b. 1977)
- گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحابہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجابAamir Suhail (b. 1977)
- لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیںچراغ بام سے جس کو اتر کے دیکھتے ہیںAamir Suhail (b. 1977)
- جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گاوگرنہ تجھ کو کہیں خاک میں پڑا ملوں گاaabid umar (b. 1977)
- مجھ ایسے شخص کی حاجت روائی کرتے ہوئےبھٹک گیا تھا وہ کار خدائی کرتے ہوئےaabid umar (b. 1977)
- وفا کی خو پس جاہ و جلال رہ گئی تھیانا کے خول میں وہ بے مثال رہ گئی تھیaabid umar (b. 1977)
- یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کییہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کیaabid umar (b. 1977)
- سمجھ رہے تھے کہ بادل ہیں سر پہ چھائے ہوئےمگر غبار پہ نظریں تھے ہم جمائے ہوئےChand Kakralvi (b. 1979)
- خیال و خواب میں دنیا صدا بسائی گئیاسی لئے تو حقیقت سے آشنائی گئیSaabir Usmani (b. 1979)
- یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھاہم اپنی ذات میں گم تھے کوئی خیال نہ تھاTahira Jabeen Tara (b. 1979)
- زمین دل پہ سبھی آسمان چھوڑ گیاوہ اک یقین تھا لیکن گمان چھوڑ گیاZaheen Bikaneri (b. 1979)
- سکون قلب ہے دھڑکن کی انتہا ہے غزلوقار زیست ہے سانسوں کا سلسلہ ہے غزلZaheen Bikaneri (b. 1979)
- بڑے یقین سے کوئی اس انتظار میں ہےترا وصال کا وعدہ اسی بہار میں ہےJagjit Kafir (b. 1979)
- کوئی حبیب کوئی مہرباں تو ہے ہی نہیںہمارے سر پے کوئی آسماں تو ہے ہی نہیںJagjit Kafir (b. 1979)
- ہر ایک گام پہ رنج سفر اٹھاتے ہوئےمیں آ پڑا ہوں یہاں تجھ سے دور جاتے ہوئےKaami Shah (b. 1979)
- بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مریاٹک گئی ہے ستارے میں اک پتنگ مریDaniyal Tareer (1980–2015)
- اسی لئے ہمیں احساس بے وفائی نہیںہمارے پاس ہیں کنگن کوئی کلائی نہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگاکھلی جو دھوپ تو پانی کا رنگ اڑنے لگاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھاوہ آدمی جو مرا درد سر بنا ہوا تھاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- جتن سے رکھ ہمیں جب تک کہ با حیات ہیں ہمترے بدن کی ریاست کے کاغذات ہیں ہمFaiz Khalilabadi (b. 1980)