کبھی وہ موت سے ڈرتا ہے زندگی سے کبھی

Nabil (b. 1974)

کبھی وہ موت سے ڈرتا ہے زندگی سے کبھی

وہ کام جھوٹ سے لیتا ہے بندگی سے کبھی

کہاں سہی ترا سنگین ہو کے ٹھکرانا

تو مسکرا کے کبھی مار دل لگی سے کبھی

نہ جانے کیوں نہیں راضی ہے دل اجالے سے

مجھے ملا بھی نہیں کچھ ہے تیرگی سے کبھی