ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریب

Ehya Bhojpuri (b. 1977)

ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریب

کہ اس کو چاہئے گہرائیاں عجیب و غریب

یہ کس کا زور ہے میرے چراغ کی لو پر

بنا رہا ہے جو پرچھائیاں عجیب و غریب

ہمارے خواب کی گلیوں سے کون گزرا ہے

کہ آ رہی ہیں یہ انگڑائیاں عجیب و غریب

نظر اتارتی ہے وقت وقت پر میری

ملی ہے ماؤں کو بینائیاں عجیب و غریب

جلائے میری ہی سگریٹ مری عیادت پر

یہ میرا دوست بھی ہے کائیاں عجیب و غریب