سمجھ رہے تھے کہ بادل ہیں سر پہ چھائے ہوئے
Chand Kakralvi (b. 1979)سمجھ رہے تھے کہ بادل ہیں سر پہ چھائے ہوئے
مگر غبار پہ نظریں تھے ہم جمائے ہوئے
تمام رات الاؤ پہ کاٹنے کے لئے
سنے گئے کئی قصے سنے سنائے ہوئے
جھلس رہا ہے بدن دھوپ کی تمازت سے
امید سوکھے درختوں سے ہیں لگائے ہوئے
ادا نہ کر سکے ہم قرض تیری چاہت کا
تری گلی سے گزرتے ہیں سر جھکائے ہوئے
وہ جن کی خون پسینے سے آبیاری کی
انہیں درختوں کے حاصل ہمیں نہ سائے ہوئے
وہ کیا سمجھتے اجالوں کی اہمیت اے چاندؔ
جنہیں چراغ ملے تھے جلے جلائے ہوئے