Poetry
Mutaqarib Musamman Salim
متقارب مثمن سالم- خفا مت ہو مجھ کو ٹھکانے بہت ہیںمرا سر رہے آستانہ بہت ہیںعبدالرحمان احسان دہلوی
- اگر گل میں پیارے تری بو نہ ہووےوہ منظور بلبل کسی رو نہ ہووےعشق اورنگ آبادی
- عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایاکوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایارند لکھنوی
- مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہےغرض ہاتھ دونوں سے دھونا پڑا ہےرند لکھنوی
- نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہارینہیں پاس کوئی نشانی تمہاریرند لکھنوی
- نہیں قول سے فعل تیرے مطابقکہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادقرند لکھنوی
- صمد کو سراپا صنم دیکھتے ہیںمسمیٰ کو اسما میں ہم دیکھتے ہیںساحر دہلوی
- تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
- وہ زیب شبستاں ہوا چاہتا ہےیہ مجمع پریشاں ہوا چاہتا ہےقربان علی سالک بیگ
- نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہےکہ فوارہ خوں کا اچھلنے لگا ہےمرزا اظفری
- ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارےہیں مشتاق دیدے تمہارے پیارےمرزا اظفری
- بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمکبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےTahir Faraz
- جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگازمیں پر کوئی تم سا پیدا نہ ہوگانسیم بھرتپوری
- یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گےوہ حاصل بڑی نیک نامی کریں گےنسیم بھرتپوری
- دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی کو ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
- محبت سے بندہ بنا لیجئے گابتا دیجیے کیا خدا لیجئے گاواجد علی شاہ
- فسانۂ عبرتاحمق پھپھوندوی
- ملک کی محبتاحمق پھپھوندوی
- راہ راستاحمق پھپھوندوی
- یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہےنظر جس طرف کیجیے تو ہی تو ہےگویا فقیر محمد
- ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھےجب اٹھے تھے زانو سے ہاتھ آشنا تھےمرزا محمد تقی ہوس
- بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوںمیں جاناں کا جلوہ عیاں دیکھتا ہوںشاہ آثم
- چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہاراہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہاراآغا شاعر قزلباش
- جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہےمگر صرف صاحب سلامت رہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیںہمارے سوا نکتہ داں اور بھی ہیںUrooj Qadri
- وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوںخطا کر رہا ہوں سزا چاہتا ہوںUrooj Qadri
- چرا کر نظر اک نظر دیکھ لینامحبت کا پھر تم اثر دیکھ لیناDard Sironji
- شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالیجھکی ہے بلا پر بلا کالی کالیQadr Bilgrami
- وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہےنہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہےآسی غازی پوری
- ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہےپس امتحاں امتحاں ہو رہا ہےعاشق اکبرآبادی
- جفا دیکھنی تھی ستم دیکھنا تھانصیبوں میں رنج و الم دیکھنا تھاعزیز حیدرآبادی
- ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھااسے اپنی ہستی سے بے زار دیکھامیر سوز
- نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہےگلے میں ہیں بانہیں گلا ہو رہا ہےشرف مجددی
- فقیروں پہ اپنے کرم اک ذرا کرترے در پہ بیٹھے ہیں دھونی رما کرسرور جہاں آبادی
- محبت کی انتہا چاہتا ہوںانہیں حاصل ابتدا چاہتا ہوںباسط بھوپالی
- تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھاجو پردہ تھا حائل اٹھایا تو دیکھاممنون نظام الدین
- وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میںکہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میںشیر سنگھ ناز دہلوی
- ہوا کی نظر سے بچا آتے آتےکہیں بجھ نہ جائے دیا آتے آتےHabib.I.Kinkhabwala
- سحر نے مسرت کا نغمہ سنایافضا نے گلستاں کا دامن سجایاLaiq Siddiqi
- اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابلتو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابلمفتی صدر الدین خان آزردہ
- مجھے پہلے تم اک نظر دیکھ لیناجدھر چاہے جی پھر ادھر دیکھ لینامحمود رامپوری
- ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسےبنے لا مکاں کے مکاں کیسے کیسےنسیم میسوری
- جہاں بات وحدت کی گہری رہے گیوہاں فکر اپنی نہ تیری رہے گیYasin Ali Khan Markaz
- عجب بھول و حیرت جو مخلوق کو ہےخدا کی طلب شرک کی جستجو ہےYasin Ali Khan Markaz
- ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیںسلیقے سے شمس و قمر دیکھتے ہیںفرحت کانپوری
- سناؤں تمہیں زندگی کی کہانیغم جاودانی غم جاودانیہوش بلگرامی
- محبت کی فطرت ہے یہ بے قراریکوئی کیا کرے گا مری غم گساریہوش بلگرامی
- تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھےہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھےمیر تسکین دہلوی
- شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کانہ یوں بن کے بگڑے مقدر کسی کاراجہ نوشاد علی خان
- وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کاوہ دل تھام کر بیٹھ جانا کسی کاراجہ نوشاد علی خان