بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں

Urooj Qadri

بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں

ہمارے سوا نکتہ داں اور بھی ہیں

یہ دنیا تو مٹ جانے والی ہے لیکن

زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں

یہ دنیا تو اک ذرۂ مختصر ہے

مکیں اور بھی ہیں مکاں اور بھی ہیں

نہ تنہا مرا کارواں راہ میں ہے

رہ عشق میں کارواں اور بھی ہیں

نہ ہو مطمئن ایک پتھر ہٹا کر

کہ رستے میں سنگ گراں اور بھی ہیں

اگر جی لگے آپ کا تو سناؤں

فسانے کئی بر زباں اور بھی ہیں

کہو بجلیوں سے کہ برسیں مسلسل

ابھی باغ میں آشیاں اور بھی ہیں

عروجؔ اپنے گوشے سے باہر تو نکلو

کہ باہر ہزاروں جہاں اور بھی ہیں