Poetry
Mutadarik Musamman Salim
متدارک مثمن سالم- موسیٰ سمجھے تھے ارماں نکل جائے گایہ خبر ہی نہ تھی طور جل جائے گاQamar Jalalvi (1887–1968)
- ان سے ہنستے ہی ہنستے محبت سی شےہونے والی کہیں تھی مگر ہو گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ان کے ہونٹوں پر آیا تبسم ادھرنبض عالم ادھر تیز تر ہو گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھرFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہمدار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- چشم نم جان شوریدہ کافی نہیںتہمت عشق پوشیدہ کافی نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تین فتنوں کا قصہ پرانا ہواچار فتنوں کا سنیے ذرا ماجراAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- بے نیازی کی اک شان بن جائیےمجھ سے دانستہ انجان بن جائیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیںجو مجھے راہ چلتے کو پہچان لےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تویوں اڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھیAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلےمیں اگر تھک گیا قافلہ تو چلےKaifi Azmi (1919–2002)
- اپنے اندر ذرا جھانک میرے وطناپنے عیبوں کو مت ڈھانک میرے وطنSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کوئی دل کی چاہت سے مجبور ہےجو بھی ہے وہ ضرورت سے مجبور ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بے اثر آرزو بے اثر ہے دعابا اثر ہے فقط ایک اس کی رضاOm Prakash Laghar (b. 1924)
- دل سنبھلتے سنبھلتے سنبھل جائے گاغم مسرت کے سانچے میں ڈھل جائے گاOm Prakash Laghar (b. 1924)
- زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئیموت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئیOm Prakash Laghar (b. 1924)
- آج تو دفعتاً سامنے آ گئیتیری رفتار باد صبا کی طرحQaisarul Jafri (1926–2005)
- عشق میں موت کا نام ہے زندگیجس کو جینا ہو مرنا گوارا کرےKaleem Aajiz (1926–2015)
- ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوںایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
- پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںIbn-e-Insha (1927–1978)
- اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہماب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علمHabib Jalib (1928–1993)
- دل کی کونپل ہری تیرے ہونے سے ہےزندگی زندگی تیرے ہونے سے ہےHabib Jalib (1928–1993)
- دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلےHabib Jalib (1928–1993)
- زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں ہمحوصلہ اپنا خود آزماتے ہیں ہمA G Josh (1928–2007)
- تیرے الطاف کا لطف اٹھاتے رہےنور برسا کیا ہم نہاتے رہےYashpal Gupta (b. 1928)
- کس نے دیکھا ہے اشکوں کو بہتے ہوئےسونے چاندی کے محلوں میں تم جا بسےDaur Afridi (1930–1992)
- وائے ناداریاں ہائے مجبوریاںرسم و آداب کے بس میں ہے زندگیDaur Afridi (1930–1992)
- یک بیک جو کسی کا خیال آ گیاروح بے خود ہوئی دل کو حال آ گیاParkash Nath Parvez (b. 1930)
- بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گےصرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گےJaun Elia (1931–2002)
- مجھ سے پہلے کے دناب بہت یاد آنے لگے ہیں تمہیںJaun Elia (1931–2002)
- اک ستاروں بھرا آسماں ہو گئےاب خدا کی قسم تم جواں ہو گئےDanish Aligarhi (b. 1931)
- میرے اندر وہ میرے سوا کون تھامیں تو تھا ہی مگر دوسرا کون تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- چاہے مانو برا ہم نہیں مانتےپتھروں کو خدا ہم نہیں مانتےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمیپھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمیNida Fazli (1938–2016)
- اس طرح دل کو بے آسرا چھوڑ کرہم کہاں جائیں در آپ کا چھوڑ کرPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- سر پہ آئی جو آفت وہ ٹل ہی گئیزندگی رنج و غم سے نکل ہی گئیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرحثبت ہو جاؤں گا دستخط کی طرحZafar Kaleem (b. 1938)
- آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیاWaseem Barelvi (b. 1940)
- میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہےوقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- مجھ میں بہتی ہے پاگل ہوا کون سیکون سی ہے یہ باد صبا کون سیLutf-ur-rahman (b. 1941)
- سارے لہجے ترے بے زماں ایک میںاس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میںMohsin Naqvi (1947–1996)
- سینکڑوں غم کی سوغات دے کر مجھےپھر یہ کہتے ہیں ہم نے دیا کچھ نہیںVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- پھر وہی بے دلی پھر وہی معذرتبس بہت ہو چکا زندگی معذرتLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- دشت تنہائی بادل ہوا اور میںروز و شب کا یہی سلسلا اور میںTabish Mehdi (b. 1951)
- روشنی آدمی تیرگی آدمیزندگی آدمی موت بھی آدمیTabish Mehdi (b. 1951)
- وہ جو غزلوں کے استاد ہیں دوستوںکیا کہیں کتنے جلاد ہیں دوستوںUrmilesh (1951–2005)
- کرتا غیروں کے تعمیر گھر آدمیکر کے فٹ پاتھ پر خود بسر آدمیMadhukar Shaidai (b. 1951)
- آسماں سے صحیفے اترتے رہےروشنی سے مگر لوگ ڈرتے رہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- راستہ بے زباں بے صدا بھی نہیںکوئی مڑ کر مگر دیکھتا بھی نہیںEjaz Ansari (b. 1955)
- آئنہ کون ہے کچھ پتا تو چلےبے خطا کون ہے کچھ پتا تو چلےCharan Singh Bashar (b. 1957)