آج تو دفعتاً سامنے آ گئی

Qaisarul Jafri (1926–2005)

آج تو دفعتاً سامنے آ گئی

تیری رفتار باد صبا کی طرح

پندرہ سال کا درد مہکا گئی

میں سر راہ حیران سا رہ گیا

یاد ماضی کی شبنم برسنے لگی

اور میں دیر تک بھیگتا رہ گیا

چاندنی میں نہایا بدن تھا وہی

چھن رہی تھی وہی دودھیا روشنی

آئنہ آئنہ پیرہن تھا وہی

تیرے تیور ترے ناز ویسے ہی تھے

اب کسی اور کے واسطے ہی سہی

مسکرانے کے انداز ویسے ہی تھے

زندگی تیری خوش حال پہلے بھی تھی

وقت کی دھول تو صرف مجھ پر جمی

تو اسی طرح کچھ سال پہلے بھی تھی

بلکہ کچھ اور بھی دل نشیں ہو گئی

رنگ کھلتا گیا رخ نکھرتا گیا

میرے شعروں سے بڑھ کر حسیں ہو گئی

درد بے چہرگی جان پائی نہ تو

میرا احساس اک زخم سے بچ گیا

شکر ہے مجھ کو پہچان پائی نہ تو