روشنی آدمی تیرگی آدمی

Tabish Mehdi (b. 1951)

روشنی آدمی تیرگی آدمی

زندگی آدمی موت بھی آدمی

ہے سراپائے جرم و بدی آدمی

کھو چکا اپنی پہچان بھی آدمی

آدمی آدمی ہیں برابر مگر

سوچتا ہی نہیں یہ کوئی آدمی

آدمی آدمی ہی سے بیزار ہے

پست ہے کس قدر واقعی آدمی

جس نے بخشی تھی لاکھوں کو آزادیاں

ہے اسیر غلامی وہی آدمی

ہر کسی کو خوشی آشنا کر گیا

بزم میں آ کے اک اجنبی آدمی

کتنا پست آدمیت کا معیار ہے

سوچتا یہ بھی تابشؔ کبھی آدمی