بے نیازی کی اک شان بن جائیے

Urooj Zaidi Badayuni (1912–1987)

بے نیازی کی اک شان بن جائیے

مجھ سے دانستہ انجان بن جائیے

شرح ہستی کا عنوان بن جائیے

میرا دیں میرا ایمان بن جائیے

ہائے یہ بے خودی اور اس کا مآل

اب خودی کے نگہبان بن جائیے

نقد اہل جہاں دیکھنے کے لیے

کچھ دنوں کو پریشان بن جائیے

آدمی سے فرشتہ یہ امکاں سہی

آئیے آپ انسان بن جائیے

کیا کمی ہے جو ان سے گزارش کروں

رنگ و نکہت کا طوفان بن جائیے

مہر تصدیق کردار بھی ہے کہیں

آپ بننے کو ذیشان بن جائیے

کائنات اور پھر اس کا عکس جمال

پیش آئینہ حیران بن جائیے

عارفانہ تجاہل کے قرباں عروجؔ

پھر ذرا آپ انجان بن جائیے