Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- اپنی پرسش جو ہو ارباب وفا سے پہلےمانگیے دولت دیدار خدا سے پہلےمیر کلو عرش
- خوں بہانے کا بہانہ ہے بھلا میرے بعدتین دن پان بھی کھانا نہ ذرا میرے بعدمیر کلو عرش
- رخ سے برقع جو الٹ دے وہ تو آفت ہو جائےقد کشی ہو تو نمودار قیامت ہو جائےمیر کلو عرش
- مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گامفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گامرزا جواں بخت جہاں دار
- میں تو سو بار ترے ملنے کو آیا تنہالیکن افسوس کبھی تجھ کو نہ پایا تنہامرزا جواں بخت جہاں دار
- تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہوکہیں گل اور کہیں خار نظر آتے ہووزیر علی صبا لکھنؤی
- آخر شب جو فضاؤں میں چھڑا ہوتا ہےوہ بھی کیا نغمۂ بے ساز و صدا ہوتا ہےBadr Shamsi
- دل کے ہر زخم کو ہونٹوں پہ سجایا جائےکیا ضروری ہے کہ حال اپنا سنایا جائےBadr Shamsi
- میں چراغ شب ہستی ہوں ضیا کیا مانگوںزندہ رہنا ہے تو چلنے کے سوا کیا مانگوںBadr Shamsi
- ان پہ رشک آتا ہے یہ لوگ ہیں قسمت والےراہ میں تیری مٹے تیری محبت والےشاہ اکبر داناپوری
- ترک کی جائے گی مدت کی رفاقت کیسےچھوڑ دے گی مجھے تو اے شب فرقت کیسےشاہ اکبر داناپوری
- ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتادیکھ لیتا جو کوئی دیکھنے والا ہوتاشاہ اکبر داناپوری
- شکل جب بس گئی آنکھوں میں تو چھپنا کیسادل میں گھر کر کے مری جان یہ پردا کیساشاہ اکبر داناپوری
- تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھااچھا اچھا ارے او جان کے لیوا اچھاشاہ اکبر داناپوری
- جو بنے آئنہ وہ تیرا تماشہ دیکھےاپنی صورت میں ترے حسن کا جلوہ دیکھےشاہ اکبر داناپوری
- محو ایسا تری صورت میں ہے شیدا تیرادیکھتا ہے وہ ہر اک شکل میں جلوہ تیراشاہ اکبر داناپوری
- جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہےاثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہےاختر انصاری اکبرآبادی
- زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روزمیں سنواروں گا تری زلف پریشاں اک روزاختر انصاری اکبرآبادی
- شاعرو حد قدامت سے نکل کر دیکھوداستانوں کے اب عنوان بدل کر دیکھواختر انصاری اکبرآبادی
- کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلےکون آیا تھا تری بزم میں ہم سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
- یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورتقابل دید ہوئی ہے گل تر کی صورتاختر انصاری اکبرآبادی
- صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کاحشر ہے وصل کا دن یا مری رسوائی کابیخود موہانی
- بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گےکس سے ملتی ہے نظر ان کی نظر دیکھیں گےCharkh Chinioti
- جب سر بام وہ خورشید جمال آتا ہےذرے ذرے پہ قیامت کا جلال آتا ہےCharkh Chinioti
- جلوۂ ہوش ربا کوئی دکھایا جائےعالم شوق کو دیوانہ بنایا جائےCharkh Chinioti
- عقل حیران ہے رحمت کا تقاضا کیا ہےدل کو تقصیر کی ترغیب تماشا کیا ہےCharkh Chinioti
- کب غریبوں کو اجالوں کی خبر ہوتی ہےزندگی ان کی اندھیروں میں بسر ہوتی ہےCharkh Chinioti
- گنگناتی ہوئی آواز کہاں سے لاؤںتیری آواز کا انداز کہاں سے لاؤںCharkh Chinioti
- ہم جو مل بیٹھیں تو یک جان بھی ہو سکتے ہیںپورے اپنے سبھی ارمان بھی ہو سکتے ہیںCharkh Chinioti
- اوم کا جھنڈا فضاؤں میں اڑاتا آیااسے تہذیب کا سرتاج بناتا آیاCharkh Chinioti
- عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کاہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کاEjaz Gul
- کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پرکون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہےEjaz Gul
- حرف تم اپنی نزاکت پہ نہ لانا ہرگزہاتھ بیداد و ستم سے نہ اٹھانا ہرگزمیر مہدی مجروح
- عشق کا راز نہ کیوں دل سے نمایاں ہو جائےکاش یہ بھی کسی ناکام کا ارماں ہو جائےPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کاہو کے عالم میں ہے مسکن ترے دیوانے کاPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- کیسے مانوں کہ زمانے کی خبر رکھتی ہےگردش وقت تو بس مجھ پہ نظر رکھتی ہےTahir Faraz
- میرے آنسو تری آنکھوں سے اگر مل جائیںجتنے مرجھائے ہوئے پھول ہیں سب کھل جائیںTahir Faraz
- اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گامیں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گابیان میرٹھی
- جب ملا یار تو اغیار ستی کیا مطلبگل میسر ہوا تب خار ستی کیا مطلبداؤد اورنگ آبادی
- آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنااس نے سیکھا ہی نہیں لفظ محبت پڑھناEhtisham ul Haq Siddiqui
- شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑااس طرح آپ نے مجھ سے مرا رشتہ جوڑاEhtisham ul Haq Siddiqui
- کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلایاد آیا تو مرا اپنا ہی چہرہ نکلاEhtisham ul Haq Siddiqui
- بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیاکیا ستم کوئی نیا مشفق من یاد آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہےبند اس شیشۂ نازک میں پری رہتی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- دعوت نظرعلی منظور حیدرآبادی
- ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیںہم کو دیکھیں وہ اگر حسن نظر رکھتے ہیںمنیر بھوپالی
- قید میں بھی ہے جنوں دست و گریباں ہم سےآ کے خلوت میں بھی ملتا ہے بیاباں ہم سےناطق لکھنوی
- مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہوناکیف میں بھول گیا چاک گریباں ہوناناطق لکھنوی
- خون دل کا جو کچھ اشکوں سے پتہ ملتا ہےہم کو جی کھول کے رونے میں مزا ملتا ہےناطق لکھنوی
- ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیںدل میں گھر کرنے کو مہمان چلے آتے ہیںنسیم بھرتپوری