عشق کا راز نہ کیوں دل سے نمایاں ہو جائے

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

عشق کا راز نہ کیوں دل سے نمایاں ہو جائے

کاش یہ بھی کسی ناکام کا ارماں ہو جائے

نہیں امید کہ وہ حشر بداماں ہو جائے

ایسا دیوانہ جو خود داخل زنداں ہو جائے

درد قابو کا نہیں کاش وہ اٹھ کر شب غم

سرگزشت دل ناشاد کا عنواں ہو جائے

نہ تسلی نہ دلاسا نہ کہیں نام کو صبر

حیف اس دل پہ کہ یوں بے سر و ساماں ہو جائے

غنچے چٹکیں کہ کھلیں پھول بڑھے جوش نمو

حسن پنہاں کسی عنواں سے نمایاں ہو جائے