کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلا

Ehtisham ul Haq Siddiqui

کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلا

یاد آیا تو مرا اپنا ہی چہرہ نکلا

گرمیٔ زیست نہیں آج مقدر میں مرے

آج سورج بھی جو نکلا تو ادھورا نکلا

لوٹ جانے میں لگیں گے مجھے برسوں شاید

یہ سمندر تو مری سوچ سے گہرا نکلا

جسم تو لے گیا وہ رات میں چوری کر کے

صبح بستر سے مرے جسم کا خاکہ نکلا

زحمت نطق سے یوں بچ گئے دونوں آخر

میں ہی گونگا نہ تھا وہ شخص بھی بہرا نکلا