دل کے ہر زخم کو ہونٹوں پہ سجایا جائے

Badr Shamsi

دل کے ہر زخم کو ہونٹوں پہ سجایا جائے

کیا ضروری ہے کہ حال اپنا سنایا جائے

آنسوؤں میں تری صورت کو سجایا جائے

بہتے پانی پہ بھی اک نقش بنایا جائے

اب مجھے دیکھ کے کہتے ہیں یہ آئینہ مزاج

ایک شخص اور تھا شاید کہیں پایا جائے

کس کے بس میں ہے مری طرح صلیبوں کا سفر

اپنے ہر خواب کو سولی پہ چڑھایا جائے

آج کی رات ملاقات کا جادو نہ سہی

آج ان آنکھوں میں نیندوں کو جگایا جائے

دل کی آگ اور بڑھا دیتے ہیں بہتے آنسو

کیا کرے وہ جسے پانی سے جلایا جائے

جرم سا جرم ہے میرا کہ ہوں اک نقش وفا

دوستو مجھ کو ابھی اور مٹایا جائے

اس کے ہونٹوں پہ مرے شعر تعجب ہے مجھے

میرے افکار کو پھولوں میں بسایا جائے

بدرؔ اچھا ہے نمائش نہ ہو داغ دل کی

اپنے گھر میں ہی چراغ اپنا جلایا جائے