Poetry
- ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکلدل نے نہ کسی امر کو جانا مشکلMir Anees (1803–1874)
- عاشق ہی فقط نہیں ہے جنجالوں میںہر طائر دل پھنسا ہے ان جالوں میںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- کلکتہ کو ڈاک میں چلا ہوں جو میں آہغیروں کے پاؤں سے ہوئی قطع یہ راہMunir Shikohabadi (1814–1880)
- وہ بحر کرم جو مہرباں ہو جائےہر دامن تر صبح جناں ہو جائےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- پیری میں خاک زندگانی کا مزہدانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہGeorge Puech Shor (1823–1894)
- جب تک ہے شباب سازگار دولتہر قصر میں سو نقش و نگار دولتGeorge Puech Shor (1823–1894)
- دولت نے معاونت جو کی تو کیا کیطالع نے مساعدت جو کی تو کیا کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- کچھ تیرا ثمر نہ اے جوانی پایاسرما زدہ باغ زندگانی پایاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- کچھ کام نہیں گبرو مسلماں سے ہمیںہے کفر سے کچھ بحث نہ ایماں سے ہمیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
- کعبہ میں تو صدق اور صفا کو پایابت خانے میں ناز اور ادا کو پایاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- کیا وصف لکھوں زلف سیہ کی لٹ کاہر پیچ میں اک دل کو لیا ہے لٹکاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- گرجا میں گئے تو پارسائی دیکھیاور دیر میں جا کے خود نمائی دیکھیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- اس بزم سے میدان میں جانا ہوگاایواں سے بیابان میں جانا ہوگاQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیںیاراۓ نظر چشم تماشا میں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس عہد میں احتساب ایمانی کیاابرام معاصی کی پشیمانی کیاQalaq Meerathi (1835–1880)
- اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیںہر بزم میں کہتے ہیں کہ ہم ایسے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذپیمانۂ مے پئے فراغت ہے لذیذQalaq Meerathi (1835–1880)
- افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔانداز ترا جی کو کڑھاتا ہے قلقؔQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیںاس طرح سے دنیا کو ترستے دیکھیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکالدر پردہ نہیں وصل سے کم تیرا خیالQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کونجی اپنا بھلا میرے لیے کھوئے کونQalaq Meerathi (1835–1880)
- بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہےاور حال برا اصغر دلگیر کا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلومبے دانہ و دام نکتہ دانی معلومQalaq Meerathi (1835–1880)
- تا ماہ صیام ہوئے باب امیداور واسطۂ جشن ہو یہ یوم سعیدQalaq Meerathi (1835–1880)
- جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھینیند آنکھ میں آرام نہ پائے گی کبھیQalaq Meerathi (1835–1880)
- جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شےآگے پیچھے دھریں ہیں سب کے لاشےQalaq Meerathi (1835–1880)
- خورشید پہ جس وقت زوال آتا ہےکیوں زیر زمیں چھپ کے چلا جاتا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائےکعبہ بھی مرے طوف سے مجنوں ہو جائےQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل دیر گزاری سے ہے آوند نمکہر زخم جگر رہتا ہے دل بند نمکQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹکیا طالع خفتہ کی گئی نیند اچٹQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا کا تمام کارخانہ ہے عبثاس کشت عبث کا دانہ دانہ ہے عبثQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا کا عجب رنگ سے دیکھا انگیزہر پائے حنابستہ سوار شبدیزQalaq Meerathi (1835–1880)
- دنیا میں قلقؔ کیا ہے سراسر ہے خاکدرویش ہے خاک اور تونگر ہے خاکQalaq Meerathi (1835–1880)
- دیں ہی بے ہوش ہے نہ دنیا بے ہوشہر شکل سے ہے صورت عقبیٰ بے ہوشQalaq Meerathi (1835–1880)
- زہاد کا غفلت سے ہے اوراد و سجودہے عید کی تصویر میں رنگ معبودQalaq Meerathi (1835–1880)
- شہہ کہتے تھے افسوس نہ کہنا مانےعباس کو وہ گھیر لیا اعدا نےQalaq Meerathi (1835–1880)
- صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسےابرار سے روپوش ہوئے ہم کیسےQalaq Meerathi (1835–1880)
- غیروں کو شب وصل بلانے سے غرضمشتاق زمانے کو دکھانے سے غرضQalaq Meerathi (1835–1880)
- فانی کے ہے نزدیک بقا کو بھی فناظلمت کو اور نور و صفا کو بھی فناQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کررسوائی ناموس کا ہے کس کو ڈرQalaq Meerathi (1835–1880)
- کس واسطے دی تھیں ہمیں یا رب آنکھیںواللہ کہ بے دید ہیں بے ڈھب آنکھیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- کل تک تھی خلد خانہ زاد دہلیہے خواب و خیال آج یاد دہلیQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا جانیے الفت کا ہے کس سے آغازجاں پر نہیں ہوتا کوئی اس کا جاں بازQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا ذکر وفا جفا کسی سے نہ بنیگر دوست ملا تو مدعی سے نہ بنیQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا لینے سوئے جاہ و حشم جائیں گےکیا دینے سر کوئے کرم جائیں گےQalaq Meerathi (1835–1880)
- گاہے تو کرم ہم پہ بھی فرمائیں آپآ جائیں یہاں بھی جو کہیں جائیں آپQalaq Meerathi (1835–1880)
- گردن کو جھکا دیتا ہے ادنیٰ احسانکس طرح سے دکھلائیں گے منہ نا احسانQalaq Meerathi (1835–1880)
- لازم ہے کہ فکر رخ دلبر چھوڑوںواجب ہے یہی اب کہ مقرر چھوڑوںQalaq Meerathi (1835–1880)
- لو جائیے بس خدا ہمارا حافظبے یار کا ہے وہی پیارا حافظQalaq Meerathi (1835–1880)
- محراب و مصلیٰ اور زاہد بھی وہیسجدہ مسجود اور ساجد بھی وہیQalaq Meerathi (1835–1880)