پیری میں خاک زندگانی کا مزہ
George Puech Shor (1823–1894)پیری میں خاک زندگانی کا مزہ
دانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہ
وہ مے کشی و ذوق کہاں ہے اے شورؔ
تا مرگ نہ بھولیں گے جوانی کا مزہ
پیری میں خاک زندگانی کا مزہ
دانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہ
وہ مے کشی و ذوق کہاں ہے اے شورؔ
تا مرگ نہ بھولیں گے جوانی کا مزہ