Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- نقرئی گھنٹیاں سی بجتی ہیںدھیمی آواز میرے کانوں میںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیںان کی ٹیسیں تو کائناتی ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ان سے امید رو نمائی ہےکیا نگاہوں کی موت آئی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- جینے والے قضا سے ڈرتے ہیںزہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- زندگی ان کی چاہ میں گزریمستقل درد و آہ میں گزریShakeel Badayuni (1916–1970)
- ترک مے ہی سمجھ اسے ناصحاتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتیShakeel Badayuni (1916–1970)
- رخ پہ اپنے نقاب رہنے دےدرمیاں اک حجاب رہنے دےIbraheem Khaleel (1916–1992)
- راہ الفت کی آن باقی ہےکچھ مٹی کچھ تکان باقی ہےVafa Barahi (1917–1993)
- اک حسین لا جواب دیکھا ہےرات کو آفتاب دیکھا ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
- نہ تھے شاعر ہی کچھ بڑے غالبدل لگی میں بھی خوب تھے غالبMaftun Kotvi (1918–1980)
- ہو چکا انتظار سونے دےاے دل بے قرار سونے دےQateel Shifai (1919–2001)
- تھرتھراتی رہی چراغ کی لواشک پلکوں پہ کانپ کانپ گئےQateel Shifai (1919–2001)
- ہاتھ آ کر لگا گیا کوئیمیرا چھپر اٹھا گیا کوئیKaifi Azmi (1919–2002)
- ایک گردن پہ سیکڑوں چہرےاور ہر چہرے پر ہزاروں داغKaifi Azmi (1919–2002)
- تم خدا ہوخدا کے بیٹے ہوKaifi Azmi (1919–2002)
- چاند ٹوٹا پگھل گئے تارےقطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے راتKaifi Azmi (1919–2002)
- زندگی کیوں اداس ہے اے دوستموت کیا آس پاس ہے اے دوستQaisar Usmani (1919–2000)
- مجھ کو دیکھا نہ بات کی کوئییہ بھی آخر ادا ہوئی کوئیQaisar Usmani (1919–2000)
- جب سنبھل کر قدم اٹھاتا ہوںکوئی ٹھوکر ضرور کھاتا ہوںRaees Niyazi (1920–1994)
- غم جب ان کا دیا ہوا غم ہےحیف اس آنکھ پر جو پر نم ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- فن جو نادار تک نہیں پہنچاابھی معیار تک نہیں پہنچاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چاند مدھم ہے آسماں چپ ہےنیند کی گود میں جہاں چپ ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چند کلیاں نشاط کی چن کرمدتوں محو یاس رہتا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خون اپنا ہو یا پرایا ہونسل آدم کا خون ہے آخرSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بے پئے ہی شراب سے نفرتیہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آج دل سے دعا کرے کوئیحق الفت ادا کرے کوئیDarshan Singh (1921–1989)
- عشق شبنم نہیں شرارا ہےراز یہ مجھ پہ آشکارا ہےDarshan Singh (1921–1989)
- کاش محفل میں آج تو بھی ہواور کچھ میری گفتگو بھی ہوKaleem Saronji (b. 1921)
- ہر نفس انقلاب ہو جیسےآگہی اضطراب ہو جیسےKaleem Saronji (b. 1921)
- رات کو رات کہہ دیا میں نےسنتے ہی بوکھلا گئی دنیاHafeez Merathi (1922–2000)
- نفس سے جو لڑا نہیں کرتےروح پر وہ جلا نہیں کرتےJalee Amrohvi (1922–2013)
- جب بھی جان بہار ملتا ہےدل کو صبر و قرار ملتا ہےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- جب کبھی تیری یاد آئی ہےہر کلی دل کی مسکرائی ہےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- صحن گلشن میں چاندنی دیکھیںحسن تکمیل زندگی دیکھیںOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- اب تو بوسیدہ ہو چلے ہیں ہمٹوٹنے پھوٹنے لگے ہیں ہمEhsan Ali Khan (1922–1991)
- پھر اندھیروں نے راستے روکےپھر نئے خضر ہیں نئے دھوکےEhsan Ali Khan (1922–1991)
- رات دو رات کا بسیرا ہےزندگی جوگیوں کا پھیرا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- غم کی آغوش میں جو پلتے ہیںوہی دنیا کا رخ بدلتے ہیںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- میری بچی نے مجھ سے کل پوچھابابا یہ آسماں ہے نیلا کیوںHabib Tanvir (1923–2009)
- آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کوAda Jafri (1924–2015)
- حال کھلتا نہیں جبینوں سےرنج اٹھائے ہیں جن قرینوں سےAda Jafri (1924–2015)
- شہر سنسان ہے کدھر جائیںخاک ہو کر کہیں بکھر جائیںNasir Kazmi (1925–1972)
- کب تلک مدعا کہے کوئینہ سنو تم تو کیا کہے کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
- کون اس راہ سے گزرتا ہےدل یوں ہی انتظار کرتا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- یاد آتا ہے روز و شب کوئیہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
- باغ تاراج باغباں غائبشاخ موجود آشیاں غائبOm Krishn Rahat (b. 1925)
- خوش ہوں کب دل کی داستاں کہہ کرکیا ملے گا یہاں وہاں کہہ کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
- سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دوجی نہیں مانتا مگر رکھ دوOm Krishn Rahat (b. 1925)
- شعر کیا ہے غبار خاطر ہےطائر فکر کا کوئی پر ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
- مے کدے کی طرف چلا زاہدصبح کا بھولا شام گھر آیاKaleem Aajiz (1926–2015)