رات دو رات کا بسیرا ہے
D. Raj Kanwal (b. 1923)رات دو رات کا بسیرا ہے
زندگی جوگیوں کا پھیرا ہے
بجھ گیا چاند سو گئے تارے
دور کتنا ابھی سویرا ہے
عمر بھر ناچتا نچاتا ہے
غم بھی گویا کوئی سپیرا ہے
وقت کی سادگی پہ مت جاؤ
وقت سب سے بڑا لٹیرا ہے
روشنی چھن رہی ہے ہر جانب
پھر بھی ہر راستہ اندھیرا ہے
جام کا سلسلہ دراز رہے
میکدہ زندگی کا ڈیرا ہے
دل پہ گزرے جو حادثات کنولؔ
ان کو اشعار میں بکھیرا ہے